کراچی میں پانی کی ایک ایک بوند کے لیے شہریوں کی روزانہ کی جدوجہد کوئی نئی بات نہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں لوگ آج بھی پانی کے ٹینکروں کے انتظار میں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں جبکہ کہیں پانی کی کم فراہمی تو کہیں غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور چوری کے نیٹ ورک شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے پانی چوری کے خلاف ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جسے شہر کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) کے پہلے خصوصی پولیس تھانے کا باضابطہ افتتاح کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی اچانک بندش،کراچی کے مختلف علاقوں کو پانی کی فراہمی متاثر
حکام کے مطابق اس تھانے کا مقصد پانی چوری، غیر قانونی کنکشنز اور ہائیڈرنٹس مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔
کارساز پر واقع واٹر کارپوریشن کے ہیڈ آفس میں پولیس اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے مطابق قریباً 12 ہزار 500 مربع فٹ رقبے پر قائم کیے گئے اس خصوصی تھانے میں 4 ہزار 500 مربع فٹ پر مشتمل عمارت اور 8 ہزار مربع فٹ پارکنگ ایریا شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ پانی چوری کے خلاف قانونی کارروائی کا ایک نیا نظام ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کراچی کی تاریخ میں پہلی بار واٹر کارپوریشن ایکٹ کے تحت ایسا خصوصی تھانہ قائم کیا گیا ہے، جسے مکمل قانونی اختیارات حاصل ہیں۔ ان کے مطابق اب شہر بھر میں پانی چوری سے متعلق تمام مقدمات اسی تھانے میں درج ہوں گے اور ان کی تفتیش بھی یہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ اس اقدام سے مقدمات کے اندراج، تحقیقات اور قانونی کارروائی کے عمل میں غیر معمولی تیزی آئے گی، جس سے نہ صرف پانی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف شکنجہ کسا جا سکے گا بلکہ شہریوں کو ان کا جائز حق دلانے میں بھی مدد ملے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے واضح کیاکہ واٹر کارپوریشن نے پانی چوری، غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور سرکاری پانی کے غیر مجاز استعمال کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
میئر کراچی نے کہاکہ خصوصی پولیس تھانے کے قیام سے واٹر کارپوریشن کی انفورسمنٹ اور اینٹی تھیفٹ ٹیمیں مزید مؤثر انداز میں کام کر سکیں گی۔
ان کے مطابق یہ تھانہ پانی چوری میں ملوث افراد کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کو آسان بنائے گا۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں لاکھوں شہری پانی کی قلت اور غیر مساوی تقسیم کی شکایات کرتے رہے ہیں، اس خصوصی تھانے کے قیام کو ایک اہم قدم ضرور قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اصل امتحان اس بات کا ہوگا کہ آیا یہ اقدام واقعی شہریوں کے نلکوں تک پانی پہنچانے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، کیونکہ کراچی کے باسی اب صرف اعلانات نہیں، بلکہ عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس نئے اقدام پر شہر کے مختلف علاقوں سے شہریوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
گلشنِ اقبال کے رہائشی کامران احمد نے اس فیصلے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگر اس تھانے کے ذریعے واقعی ٹینکر مافیا اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس پر قابو پا لیا گیا تو عام شہریوں کو بڑی راحت ملے گی۔
دوسری جانب ناظم آباد کی رہائشی سیدہ رفعت زیدی نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اتنے بڑے شہر کے لیے محض ایک تھانہ کافی نہیں ہوگا اور اورنگی یا کورنگی جیسے دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے کارساز پہنچ کر شکایت درج کروانا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی: پانی کے منصوبے کے لیے واٹر بورڈ کو ساڑھے 10 ارب روپے کی فراہمی کا اعلان
شہر میں احکامات پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ملیر کے رہائشی محمد طارق کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسے کئی اقدامات کیے گئے لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا یہ پولیس اہکار واٹر مافیا کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر بلا تفریق کارروائی کر سکیں گے؟
اسی طرح ڈی ایچ اے کے فرحان خان نے کہاکہ اگرچہ یہ اقدام امید کی ایک کرن ہے اور اس سے لائنوں میں پانی کا پریشر بہتر ہو سکتا ہے، لیکن اس نئے ادارے کو سیاسی مداخلت اور رشوت ستانی سے پاک رکھنا ہی اس کی واقعی کامیابی کی ضمانت بنے گا۔













