سابق افغان ڈپٹی اسپیکر عبدالظاہر قدیر منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کے الزام میں امریکا منتقل

اتوار 12 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمہ انصاف نے تصدیق کی ہے کہ افغان پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکرعبدالظاہر قدیر کو کینیا سے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔ 52 سالہ سابق افغان جنرل پر نیویارک کی عدالت میں منشیات کی اسمگلنگ اور آتشیں اسلحہ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں آزادانہ انتخابات ہوں تو طالبان شکست کھا جائیں گے، احمد مسعود کا دعویٰ

عبدالظاہر قدیر کو 15 اپریل 2025 کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔ کینیا کی ہائیکورٹ نے رواں سال اپریل میں ان کی امریکا حوالگی کی منظوری دی تھی۔

ملزم جمعہ کے روز مینہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش ہوا، جہاں عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے قدیر کو بین الاقوامی سطح پر منشیات اور فوجی گریڈ کے ہتھیاروں کا اسمگلر قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی تھنک ٹینک نے افغانستان کو دہشتگردی کا علاقائی مرکز قرار دے دیا

مجرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں کم از کم 10 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں، عبدالظاہر قدیر کا یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ وہ کاروباری مقاصد کے لیے کینیا گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں