امریکی محکمہ انصاف نے تصدیق کی ہے کہ افغان پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکرعبدالظاہر قدیر کو کینیا سے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔ 52 سالہ سابق افغان جنرل پر نیویارک کی عدالت میں منشیات کی اسمگلنگ اور آتشیں اسلحہ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں آزادانہ انتخابات ہوں تو طالبان شکست کھا جائیں گے، احمد مسعود کا دعویٰ
عبدالظاہر قدیر کو 15 اپریل 2025 کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔ کینیا کی ہائیکورٹ نے رواں سال اپریل میں ان کی امریکا حوالگی کی منظوری دی تھی۔
ملزم جمعہ کے روز مینہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش ہوا، جہاں عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے قدیر کو بین الاقوامی سطح پر منشیات اور فوجی گریڈ کے ہتھیاروں کا اسمگلر قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی تھنک ٹینک نے افغانستان کو دہشتگردی کا علاقائی مرکز قرار دے دیا
مجرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں کم از کم 10 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں، عبدالظاہر قدیر کا یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ وہ کاروباری مقاصد کے لیے کینیا گئے تھے۔












