ترجمان آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری گفتار حسین اور ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس ڈی آئی جی عرفان مسعود کشفی نے کہا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، مفاہمت اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے۔
مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان آزاد حکومت نے کہاکہ 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے کے تحت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات وسیع تر عوامی مفاد میں منظور کیے گئے، تاہم کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی حقوق کے مطالبات سے ہٹ کر ریاست مخالف مقاصد کی جانب مائل ہوئی، جس کے باعث اسے قانون کے مطابق کالعدم قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاک فوج ہماری ریڈلائن، ایکشن کمیٹی کو مضبوط کرنے میں سیاسی جماعتیں شریک جرم ہیں، نبیلہ ایوب
دھرنے سے خوراک اور ادویات کی ترسیل متاثر
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 36 روز سے جاری دھرنے کے باعث پونچھ ڈویژن میں خوراک، ادویات اور ضروری اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، جبکہ شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے عام شہریوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل کردی گئی۔
انہوں نے کہاکہ راستوں کی بندش کے نتیجے میں کئی علاقوں میں غذائی قلت اور اشیائے ضروریہ کی کمی کی صورت حال پیدا ہوگئی۔
کشمیر میں الیکشن ہوگے یا نہیں ؟ ترجمان آزاد جموں و کشمیر نے تمام ابہام دور کردئے pic.twitter.com/tsiTdOweiW
— WE News (@WENewsPk) July 12, 2026
اس موقع پر ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کہاکہ حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ عوام کے لیے بند راستے بحال کیے جائیں، تاہم بند شاہراہیں کھلوانے کی ہر کوشش کے دوران کالعدم کمیٹی کی جانب سے مزاحمت اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ شجاع آباد میں راستہ بحال کرنے والی ٹیم پر ملحقہ علاقوں اور جنگلات سے شدید فائرنگ کی گئی، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ارجہ جھنڈالہ میں بند راستہ کھولنے کے دوران ڈوزر پر فائرنگ سے ڈوزر آپریٹر زخمی ہوا، جبکہ زخمی آپریٹر کو منتقل کرتے وقت سیکیورٹی فورسز پر بھی فائرنگ کی گئی۔
ترجمان پولیس نے کہاکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی جانب سے اشیائے خوردونوش لے جانے والے ٹرکوں پر حملے، لوٹ مار اور ڈیزل نکالنے کے واقعات کسی پرامن احتجاج کی عکاسی نہیں کرتے۔
خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال بنانے کی مذمت
ترجمان آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے کہاکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے خواتین اور بچوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے، انہیں ان کی مرضی کے خلاف دھرنے میں رکھنے اور ان کے ہاتھوں میں قرآن مجید اور سفید جھنڈے دے کر آگے لانے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہاکہ قرآن مجید کو کسی بھی تصادم یا محاذ آرائی میں استعمال کرنا مذہبی تقدس اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، جس کی بالکل اجازت نہیں دی جائے گی۔
ترجمان نے کہا کہ اشتعال انگیزی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے 13 جولائی کے احتجاج میں طلبہ و طالبات کو اسکول اور کالج کے یونیفارم میں شرکت کی اپیل کی ہے، جبکہ 15 جولائی کے لانگ مارچ میں طلبہ کو یونیفارم میں مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے فرنٹ لائن پر کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوگی۔
انتخابات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے
ترجمان آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے کہاکہ قانون کی عملداری یقینی بنانا اور معصوم شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات مقررہ انتخابی شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے اور انتخابات کے شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی یا تاخیر کا کوئی امکان نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد، منصفانہ، شفاف اور پرامن انتخابات کے لیے تمام انتظامی اور سیکیورٹی تیاریاں مکمل ہیں۔
ترجمان آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر اور ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے، افواہوں اور تفرقہ انگیز بیانیے کو مسترد کریں۔
مزید پڑھیں: کشمیر کے شہریوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے کو مسترد کردیا
انہوں نے کہاکہ ریاست کا امن، استحکام اور قانون کی بالادستی ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آزاد کشمیر کے پرامن تشخص کو نقصان پہنچانے والی گمراہ کن مہمات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور حکومت و ریاستی ادارے ہر قیمت پر امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔














