ڈیڈلائن ختم، خیبر پختونخوا میں غیر قانونی افغان باشندوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو پاکستان چھوڑنے کے لیے دی گئی 10 جولائی کی حتمی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد خیبر پختونخوا میں کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور گزشتہ روز میں 157 افغان باشندوں کو ڈیپورٹ کر دیا گیا۔

ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے پشاور شہر کے بازاروں اور رہائشی علاقوں میں مشترکہ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق پشاور میں ایک روز کے دوران 157 غیر قانونی افغان باشندوں کو حراست میں لینے کے بعد ڈی پورٹ کر دیا گیا، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کی واپسی، پارلیمنٹ کے ارکان کیا کہتے ہیں؟

حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی ہدایات پر حکمتِ عملی میں تبدیلی کی گئی ہے اور غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو گرفتاری کے بعد ایف آئی آر درج کرنے اور پھر عدالت میں پیش کرنے کے بجائے براہِ راست ڈی پورٹیشن سینٹر منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں ضروری دستاویزات اور تصدیق مکمل ہونے کے بعد طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی حکمتِ عملی کے تحت گزشتہ روز گرفتار کیے گئے 157 افغان باشندوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن کے پاس پاکستان میں رہائش کے کوئی قانونی دستاویزات نہیں تھے۔

حکام نے بتایا کہ پشاور اور ضلع خیبر میں پہلے سے قائم ڈی پورٹیشن سینٹرز کو بھی فعال کر دیا گیا ہے، جہاں گرفتاری کے بعد غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کو منتقل کیا جاتا ہے اور نادرا سے تصدیق اور دستاویزات کی جانچ کے بعد طورخم منتقل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان مہاجرین کی جبری واپسی؟ آسٹریا کا اہم معاہدہ متوقع

’غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو براہِ راست ڈیپورٹیشن سینٹرز منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں طورخم سرحد کے ذریعے افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔‘

پولیس کے مطابق واپسی کا عمل منظم انداز میں جاری ہے اور اس دوران شہری علاقوں، کرایہ داروں کی رہائش گاہوں، بازاروں اور دیگر مقامات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہوم ورک مکمل ہے اور تھانوں کی سطح پر پہلے سے غیر قانونی افراد کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں۔ اس سے قبل گھر گھر جا کر واپسی کے حوالے سے حکومتی فیصلے سے آگاہ بھی کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: 10 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی، پوست کی کاشت کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا، بلوچستان اپیکس کمیٹی کو بریفنگ

پولیس نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سخت ہدایات ملی ہیں کہ کارروائیوں کے دوران بدتمیزی اور رشوت لینے والے اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، اور اس پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ کسی بھی اہلکار کی جانب سے رشوت لینے، بدتمیزی یا ناروا سلوک کی شکایت سامنے آنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی مقیم باشندوں کی گرفتاری کے بعد انہیں طورخم منتقل کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

پس منظر

پاکستان نے اکتوبر 2023 میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا عمل شروع کیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی تھیں، جبکہ بعد ازاں مرحلہ وار حکومت نے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کو بھی ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں صرف وہی غیر ملکی قیام کر سکتے ہیں جن کے پاس قانونی سفری دستاویزات اور رہائشی اجازت نامے موجود ہوں، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 812 افغان باشندے پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں غیرقانونی افغان مہاجرین کی حفاظت کی جا رہی ہے، وزیرداخلہ محسن نقوی

ان میں 6 لاکھ 86 ہزار 772 غیر قانونی طور پر مقیم افغان، 71 ہزار 570 افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور 2 لاکھ 30 ہزار 470 پروف آف رجسٹریشن یعنی پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان باشندے شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی یو این ایچ سی آر اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت یعنی آئی او ایم کے مطابق ستمبر 2023 سے مئی 2026 تک پاکستان سے 23 لاکھ 90 ہزار سے زائد افغان شہری افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں اکثریت رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کی ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں اب بھی 9 لاکھ 32 ہزار سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں، جن کے پاس پی او آر کارڈ ہیں، جبکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی مجموعی تعداد تقریباً 20 لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، جن میں سے بیشتر خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp