امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں انڈیکس ابتدائی چند منٹوں میں تقریباً 2,300 پوائنٹس گر گیا۔
صبح 9 بج کر 43 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 179,972.52 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 2,269.25 پوائنٹس یعنی 1.25 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
مارکیٹ میں تقریباً تمام بڑے شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے شامل ہیں۔
نیشنل بینک، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، میزان بینک، پاکستان اسٹیٹ آئل، مسلم کمرشل بینک، ایس این جی پی ایل، سوئی نادرن گیس کمپنی، سوئی سدرن گیس کمپنی اور یونائیٹڈ بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے حصص منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
PSX Opened Negative 👇
☀️ KSE 100 opened negative by -2379.12 points this morning. Current index is at 179,862.66 points (9:45 AM) pic.twitter.com/pRCvOSFKgz— Investify Pakistan (@investifypk) July 13, 2026
گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مسلسل تیزی کا سلسلہ رک گیا تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔
ہفتہ وار بنیادوں پر کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ انڈیکس 3,130.43 پوائنٹس کی کمی کے بعد 182,241.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ کیوں ہے؟
ادھر عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی پیر کے روز مندی کا رجحان غالب رہا، خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے دعوے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 4.1 فیصد اضافے کے ساتھ 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 4.1 فیصد بڑھ کر 74.37 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

امریکی ڈالر اور بانڈ ییلڈز میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق توقعات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا گیا، تاہم شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق بحری آمدورفت معمول سے کم رہی۔
شیئر بازاروں میں سرمایہ کاروں کی توجہ اب کمپنیوں کے سہ ماہی مالی نتائج پر بھی مرکوز ہے، جہاں بڑے امریکی بینک منگل سے اپنے نتائج جاری کریں گے، جبکہ نیٹ فلکس اور جنرل الیکٹرکس بھی رواں ہفتے اپنی مالی رپورٹس ٍپیش کریں گی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان، بینکنگ، توانائی اور سیمنٹ سیکٹر دباؤ کا شکار
عالمی منڈیوں میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد، نیسڈیک فیوچرز میں 0.9 فیصد، یورو اسٹاکس 50 اور ڈیکس فیوچرز میں 0.6 فیصد جبکہ ایف ٹی ایس سی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایشیائی منڈیوں میں جاپان کا نکی انڈیکس 1.6 فیصد نیچے آگیا، جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.9 فیصد گر گیا۔
جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 5.4 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی یہ مارکیٹ تقریباً 8 فیصد گر چکی تھی۔
ماہرین کے مطابق سیمی کنڈکٹر کمپنیوں میں لیوریجڈ سرمایہ کاری پر دباؤ کے باعث جنوبی کوریا کی مارکیٹ عالمی چپ سیکٹر کے رجحان کا اہم اشاریہ بن گئی ہے، اور مزید کمی کی صورت میں اس کے اثرات دیگر عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔














