ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز: 37 ملازمین معطل، 10 کو شوکاز نوٹس

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ حکومت نے کراچی میں واقع سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے زیر انتظام کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کے معاملے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 37 افسران اور ملازمین کو معطل جبکہ 10 افراد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، ولیکا اسپتال میں درجنوں بچوں میں ’ایچ آئی وی‘ کا انکشاف، سندھ ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر کے سیسی اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کا جامع جائزہ لینے کا بھی حکم دیا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کے بعد محتسب سندھ کی ہدایت پر ایک اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے 19 جون 2026 کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد 37 افسران اور ملازمین کو معطل کیا گیا، جبکہ 10 افراد کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انکوائری کمیٹی نے 37 افراد کو نامزد کیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام بچوں کا علاج جاری ہے اور متاثرہ خاندانوں کی شناخت اور کوائف کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاندان کو معلوم ہو کہ اس کا بچہ ایچ آئی وی سے متاثر ہے تو اس کی پریشانی فطری ہے، اسی لیے حکومت متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک ولیکا اسپتال سے منسلک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ مختلف انکوائریوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام میں سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ معاملہ پہلی بار 23 اکتوبر 2025 کو سامنے آیا، جب چھ بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ اس کے بعد محکمہ محنت نے انکوائری کا حکم دیا اور سیسی نے اپنی میڈیکل ایڈوائزر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی جس نے 6 نومبر 2025 کو رپورٹ جمع کرائی۔

رپورٹ میں بچوں کے شعبے (پیڈیاٹرکس) اور لیبارٹری میں متعدد انتظامی، طبی اور انفیکشن کنٹرول کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی جن میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کا فقدان، جراثیم سے پاک رکھنے کے نظام کی ناقص نگرانی، بائیو میڈیکل ویسٹ کو ٹھکانے لگانے میں بے ضابطگیاں، بائیو ہیزرڈ کنٹینرز کی کمی، طبی سامان کے ریکارڈ میں خامیاں، ڈسپوزیبل سرنجوں اور دیگر ایک بار استعمال ہونے والے طبی آلات کو غلط انداز میں استعمال یا سنبھالنے کے شواہد، حفاظتی لباس (پی پی ای) کے استعمال میں غفلت، اور ایچ آئی وی مریضوں کی مناسب فالو اپ مانیٹرنگ نہ ہونا شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کی آب بیتی، علاج بھی ادھورا، سہولیات بھی ناکافی

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان خامیوں کے بعد ولیکا اسپتال میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) سینٹر قائم کیا گیا جو نومبر 2025 میں فعال ہوا۔ سندھ بھر کے تمام سیسی اسپتالوں میں ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے نئے ایس او پیز نافذ کیے گئے، جبکہ 300 سے زائد ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی اسکریننگ بھی کی گئی، جس کے دوران دو ملازمین میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ محتسب سندھ نے بھی ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسپتال میں علیحدہ آئسولیشن وارڈ قائم کرنے، تیسرے فریق سے آڈٹ کرانے، جامع انکوائری اور متاثرہ بچوں کو بہترین علاج فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، جن پر عملدرآمد جاری ہے۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ دوسری انکوائری کمیٹی، جس کی سربراہی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نائلہ ظہیر نے کی، نے 19 جون 2026 کو اپنی رپورٹ میں متعدد انتظامی، طبی اور نگرانی کی کوتاہیوں پر مختلف افسران اور ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا۔ رپورٹ کی روشنی میں 37 افسران، ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری عملے اور معاون اسٹاف کو معطل کر کے 3 جولائی کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے جنہیں 14 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی جانوں سے متعلق کسی بھی قسم کی غفلت ناقابل قبول ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے محکمہ محنت، محکمہ صحت اور سیسی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ تمام بچوں کو مفت علاج، ادویات، تشخیصی سہولیات اور طویل مدتی نگہداشت فراہم کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ سندھ بھر کے تمام سیسی اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول، جراثیم کشی، طبی فضلے کی تلفی اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں 20 ہزار ایچ آئی وی مریض ’لاپتا‘، 8 لاکھ ڈالر کی طبی امداد غائب

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کی طویل مدتی علاج، بحالی اور فلاح و بہبود کے لیے 2 ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا جا چکا ہے جبکہ معروف ماہر امراض اطفال اور متعدی بیماریوں کی ماہر پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ میر کی خدمات بھی علاج کے لیے حاصل کی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہشتگرد عناصر کو کسی صورت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا : سرفراز بگٹی

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں، عسکری اعزاز سے نواز دیا گیا

پاکستان کا عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی مضبوط حمایت کا اعادہ

کراچی رینجرز کیمپ حملہ: سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب، مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار

وزیراعظم کا ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کا حکم، کیش لیس معیشت کے فروغ پر زور

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم