متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کا فی الحال وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم حکومت کو پارٹی کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے واضح ٹائم لائن دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گی، مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائے گی اور اپنے وعدوں کی پابند رہے گی، ایم کیو ایم بھی اسے مناسب وقت اور گنجائش دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا اپوزیشن میں جانے کا عندیہ، فاروق ستار کا وفاق کو الٹی میٹم
وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور وفاقی وزرا ایم کیو ایم سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ایک واضح ٹائم لائن طے کی جائے اور جن امور پر اتفاق ہو چکا ہے، ان پر عملی پیش رفت کی جائے، تاہم ایم کیو ایم اپنے بنیادی مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے کہا کہ شہروں کو بااختیار بنانا چاہییے، ایم کیو ایم کے مطالبات میں بلدیاتی نظام میں حقیقی اصلاحات، آئین کے آرٹیکل 140-اے کے مطابق مکمل بااختیار بلدیاتی نظام کا نفاذ، سندھ کی گورنری ایم کیو ایم کو واپس ملنی چاہیے، یہ ہمارا اٹل فیصلہ ہے،اور شہری سندھ کے لیے چوتھے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا اعلان اور ہمارے لاپتا ساتھیوں کا معاملہ بھی ہمارے مطالبات میں شامل ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں سے قومی خزانے میں سب سے زیادہ ٹیکس اور محصولات جمع ہوتے ہیں، اس لیے ان شہروں کو بھی اسی تناسب سے وسائل، ترقیاتی فنڈز اور بنیادی سہولیات فراہم کی جانی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کے مطالبات اور حکومت پر دباؤ، کیا اتحاد برقرار رہ سکے گا؟
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ایم کیو ایم کی جانب سے حکومت چھوڑنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش جاری رکھے گی، پارٹی بھی مثبت رویہ اختیار کرے گی۔
بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر کہ ایم کیو ایم کے وفاقی وزرا اگر حکومت سے مطمئن نہیں تو انہیں حکومت چھوڑ دینی چاہیے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ایم کیو ایم کے مسائل صرف وفاق سے متعلق ہیں، ہمارے بیشتر مسائل سندھ حکومت سے متعلق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسائل کی بڑی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ گزشتہ 18 برس سے صوبے میں تمام اختیارات، وسائل، ادارے، زمینوں کے معاملات اور انتظامی فیصلے ایک ہی حکومت کے پاس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہی 18 برسوں کے دوران کراچی بدترین زوال کا شکار ہوا۔ ان کے مطابق ایک وقت تھا جب عالمی اقتصادی فورم کی درجہ بندی میں کراچی دنیا کا 12واں اہم شہر شمار ہوتا تھا، لیکن آج عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق کراچی دنیا کے بدترین سہولیات سے محروم شہروں میں چوتھے نمبر پر آچکا ہے، جو صوبائی حکمرانی کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کیوں لڑ رہے ہیں؟
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اگرچہ مجموعی طور پر تقریباً 20 برس سیاست میں گزرے، لیکن حقیقی اختیارات صرف چار برس کے لیے ملے، جب مصطفیٰ کمال کراچی کے ناظم تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس دور میں شہری ترقی، انفراسٹرکچر اور پانی کی فراہمی سمیت متعدد بڑے منصوبے مکمل کیے گئے اور شہر کو روزانہ 10 کروڑ گیلن اضافی پانی فراہم کرنے کا منصوبہ بھی ایم کیو ایم کے دور میں شروع کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد کئی برس تک پانی کا کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں ہوا، تاہم اب وفاق اور واپڈا کے تعاون سے جاری منصوبے کے تحت دسمبر تک کراچی کو مزید 26 کروڑ گیلن پانی فراہم ہونے کی توقع ہے، جس سے شہر میں پانی کی قلت میں نمایاں کمی آئے گی۔














