ناروے میں بچوں کو ابتدائی عمر میں کھیل، فطرت اور عملی زندگی سکھائی جاتی ہے، ناروے میں رہنے والے ایک شخص نے بتایا ہے کہ وہاں کے تعلیمی نظام اور بچوں کی پرورش کے انداز نے بچپن اور تعلیم سے متعلق اس کی سوچ مکمل طور پر بدل دی، جس کے بعد اس کی سوشل میڈیا پوسٹ پر دلچسپ بحث شروع ہوگئی۔
ونود نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ناروے میں کنڈرگارٹن کو بچوں کو تعلیمی دوڑ میں آگے بڑھانے کی جگہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایسا ماحول تصور کیا جاتا ہے جہاں بچے، بچے بننا سیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھاری بھرکم اسکولز بیگز سے نجات کی نئی پالیسی کیا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ ناروے میں بچے ہر موسم میں گھنٹوں کھلے ماحول میں وقت گزارتے ہیں۔ وہ جنگلات، پہاڑوں اور قدرتی مقامات پر کھیلتے ہیں، چٹانوں پر چڑھتے ہیں، مٹی میں کھیلتے ہیں، اپنے ہاتھوں سے چیزیں بناتے ہیں، فطرت کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اختلافات کو خود حل کرنا سیکھتے ہیں اور خودمختاری حاصل کرتے ہیں۔
Living in Norway 🇳🇴 has quietly changed the way I think about children and their wellbeing.
In Norway, kindergarten isn’t seen as a place to get ahead academically. It’s where children learn to become… children.
They spend hours outdoors in every season – through snow,…
— Vinod (@turiyatman) July 13, 2026
ونود کے مطابق پڑھنا اور لکھنا تو بعد میں بھی سیکھا جاسکتا ہے، مگر بچپن دوبارہ واپس نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ بھارت واپس آئے تو دیکھا کہ 3 سال کی عمر کے قریب بچے بھی اسکول بیگ اٹھائے ہوئے تھے، حروف لکھنے، اعداد گننے اور ورک شیٹس مکمل کرنے میں مصروف تھے۔
ان کے بقول ایسا محسوس ہوا جیسے بچوں کو صرف اگلی جماعت کے لیے تیار کیا جا رہا ہو، نہ کہ انہیں بچپن گزارنے کا موقع دیا جا رہا ہو۔ انہوں نے لکھا کہ یہ منظر دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل مجسٹریٹ نے گورنمنٹ اسکول کے دورے پر کیا دیکھا؟
اپنی پوسٹ کے اختتام پر ونود نے سوال اٹھایا کہ کیا زندگی کے پہلے اسباق صرف حروفِ تہجی اور اعداد ہونے چاہییں یا پھر اعتماد، مہربانی، ثابت قدمی، تجسس اور بچپن کی خوشیوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے۔
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جہاں صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ بعض افراد نے کہا کہ بچوں کی پرورش کا انحصار والدین پر ہوتا ہے، جبکہ دیگر نے ونود کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی عمر میں بچوں پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔













