عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کو ابتدائی اضافے کے بعد کچھ نیچے آگئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مجوزہ 20 فیصد “تحفظی فیس” عائد کرنے کا منصوبہ واپس لینے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی بدنیت اور جھوٹی قیادت ملک کو مکمل تباہی کی طرف لے کر جارہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت تقریباً 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 79.56 ڈالر فی بیرل جبکہ عالمی معیار برینٹ خام تیل تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 84.95 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی مثبت مذاکرات کے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد امریکی تحفظی فیس عائد کرنے کی تجویز واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے خلیجی ممالک امریکا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے معاہدے کریں گے جنہیں وہ اس فیس کا متبادل قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک روز قبل مطالبہ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز امریکی بحریہ کی سیکیورٹی کے بدلے 20 فیصد فیس ادا کریں کیونکہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
تاہم یہ تجویز ماضی کی امریکی پالیسی کے برعکس تھی کیونکہ امریکا ہمیشہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی لازمی فیس یا ٹول کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن بھی اس گزرگاہ پر لازمی ٹول کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔
مزید پڑھیے: ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ
اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی افواج نے پیر کو ایران کے ساحلی علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنایا تاکہ تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 14, 2026
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو سپر ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن کے ٹرانسپونڈر بند تھے۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ادنوک نے بھی تصدیق کی کہ اس کے 2 آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کی زد میں آئے، جس میں ایک ملاح ہلاک جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔
سینٹکام نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی بحریہ مقررہ وقت پر ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گی۔
ادھر امریکی مالیاتی ادارے سٹی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھا سکتی تھی۔
بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران امریکا کے ساتھ طے پانے والی عبوری مفاہمت سے الگ ہو جاتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’تحفظ کی قیمت وصول کریں گے‘ ٹرمپ کا یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے رواں سال فروری کے آخر میں ایران پر حملوں سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے باعث بحری آمدورفت متاثر ہوئی تاہم امریکا اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد اس میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی۔













