’کیا ٹیک کمپنیوں کا کلاؤڈ ڈیٹا دنیا کو پانی سے محروم کر رہا ہے؟ ایمیزون کا حیران کن اعتراف

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کی جانب سے ماحولیاتی شفافیت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔

کمپنی نے پہلی بار عوامی سطح پر اعتراف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران اس کے عالمی ڈیٹا سینٹرز نے مجموعی طور پر تقریباً 2.5 ارب گیلن (9 ارب لیٹر سے زیادہ) پانی استعمال کیا۔ تاہم، اس بھاری کھپت کے باوجود کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی تنصیبات ٹیکنالوجی کی صنعت میں پانی کے استعمال کے لحاظ سے ’سب سے زیادہ مؤثر‘ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:الیکٹرک گاڑیوں و متعلقہ ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے، عالمی کار ساز کمپنیاں سخت دباؤ کا شکار

یہ سنسنی خیز انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کے ماحولیاتی اثرات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

پانی اور بجلی کی بے پناہ کھپت نے دنیا بھر کے ماہرینِ ماحولیات اور بلدیاتی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث بڑی ٹیک کمپنیوں سے آپریشنز کو شفاف بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

ایمیزون کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پھیلے اس کے 924 ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے باوجود، 2024 کے مقابلے میں سال 2025 کے دوران براہِ راست ملکیتی اور آپریٹ کیے جانے والے سینٹرز میں پانی کے استعمال میں 2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

حریف کمپنیوں سے موازنہ اور ماہرین کے تحفظات

کمپنی نے اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اپنے بلاگ پر ایک تفصیلی چارٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا جیسی حریف کمپنیوں کے پانی کے استعمال کا موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ایمیزون کے مطابق ’سال 2025 میں ہمارے ڈیٹا سینٹرز نے فی کلو واٹ گھنٹہ بجلی پر صرف 0.12 لیٹر پانی استعمال کیا، جو کہ پوری ٹیک انڈسٹری میں کم ترین شرح ہے۔‘

تاہم ماہرین نے ایمیزون کے اس تقابلی دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

ایمیزون کے اعداد و شمار اس کے مجموعی ڈیٹا سینٹر آپریشنز (بشمول عام کلاؤڈ اسٹوریج) کا احاطہ کرتے ہیں، جبکہ مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بعض حریف کمپنیوں کے ڈیٹا میں صرف ’ اے ڈیٹا سینٹرز‘ شامل ہیں، جو اپنے طاقتور ’جی پی یو‘ سرورز کی حد سے زیادہ تپش کو کم کرنے کے لیے عام سینٹرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ پانی پی جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکا میں پیٹنٹ ادویات پر 100 فیصد محصول، کمپنیاں معاہدوں سے ٹیکس بچا سکتی ہیں

مزید یہ کہ ایمیزون کے ان اعداد و شمار میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے دوران استعمال ہونے والا پانی اور ان پاور پلانٹس کا پانی شامل نہیں ہے جو ان مراکز کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرتے ہیں۔

عوامی تشویش میں اضافہ اور سخت حکومتی اقدامات

ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے خلاف اب عوامی سطح پر بھی مزاحمت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایک حالیہ عالمی سروے (رائٹرز) کے مطابق اگرچہ ایک تہائی امریکی شہری مجموعی طور پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے حامی ہیں، لیکن صرف 14 فیصد افراد ایسے ہیں جو اپنے رہائشی علاقوں یا پڑوس میں ایسے مراکز کے قیام پر مطمئن ہوں گے۔

مصنوعی ذہانت کی خدمات (جیسے چیٹ بوٹس اور امیج جنریٹرز) کی مانگ میں جیسے جیسے اضافہ ہو رہا ہے، بڑے کمپیوٹنگ مراکز کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

اسی ماحولیاتی دباؤ کے پیشِ نظر امریکی شہر سیئٹل میں مقامی حکام نے نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں پر ’ایک سالہ عبوری پابندی‘ عائد کر دی ہے تاکہ ان کے اثرات کا درست تعین کیا جا سکے۔

2030 تک خوفناک ماحولیاتی منظرنامہ

اقوام متحدہ یونیورسٹی کے ’انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ‘ کی ایک ہولناک رپورٹ کے مطابق اگر یہی رفتار رہی تو سال 2030 تک دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز کا پانی کا مجموعی استعمال 9.3 ٹریلین (93 کھرب) لیٹر سالانہ تک پہنچ جائے گا۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پانی کی یہ مقدار اتنی بڑی ہے کہ اس سے سب صحرا افریقہ کے تمام 1.3 ارب باشندوں کی سالانہ گھریلو پانی کی ضروریات کو آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔‘

ایمیزون کا دفاع اور پانی کے تحفظ کے اقدامات

دوسری جانب ایمیزون نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ دیگر انسانی اور کاروباری شعبوں کے موازنے میں اس کے ڈیٹا سینٹرز کا پانی کا استعمال آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

کمپنی نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ صرف امریکی شہری ہر سال اپنے لان اور باغات کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے تقریباً 3.3 ٹریلین گیلن پانی بہا دیتے ہیں، جو ایمیزون کے ڈیٹا سینٹرز کی کل کھپت سے 1,300 گنا زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:2025 میں ٹیکنالوجی کی کونسی کمپنیاں سب سے قیمتی قرار پائیں؟

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور ری سائیکلنگ کا سہارا لے رہی ہے۔ اس وقت ایمیزون کی 26 تنصیبات مکمل طور پر ’ری کلیمڈ واٹر‘ (تطہیر شدہ پانی) پر چل رہی ہیں، جبکہ مزید 130 مقامات کے لیے ایسے ہی منصوبوں کے معاہدے کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ، کمپنی کے ڈیٹا سینٹرز تقریباً 90 فیصد وقت بیرونی قدرتی ہوا کے ذریعے ٹھنڈے رکھے جاتے ہیں، اور پانی پر مبنی کولنگ سسٹم صرف سال کے چند انتہائی گرم دنوں میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

’واٹر پازیٹو‘ بننے کا ہدف

کمپنی نے اپنے اس دیرینہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ 2030 تک مکمل طور پر ’واٹر پازیٹو‘بن جائے گی۔ اس انقلابی ہدف کے تحت ایمیزون اپنے ڈیٹا سینٹرز میں جتنا پانی استعمال کرے گا، مختلف ماحولیاتی منصوبوں اور واٹر لیکیج کی روک تھام کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کو اس سے زیادہ پانی صاف کر کے واپس لوٹائے گا۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک اپنے اس ہدف کا 75 فیصد حاصل کر چکی ہے۔تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے ڈیجیٹل دنیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دائرہ بڑھے گا، ان کمپنیوں پر کڑی نگرانی اور قانون کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp