ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

بدھ 15 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطیٰ امور کے امور منصور جعفر نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کو موجودہ صورت حال میں ہوش مندی سے کام لینا چاہیے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا۔

مشرق وسطیٰ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں صورتحال 8 جولائی سے کشیدہ ہے جب ایرانی پاسداران انقلاب نے 2 جہازوں پر حملے کیے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے منصور جعفر نے کہاکہ ایران کو امریکی صدر کے بیانات کی رو میں نہیں بہنا چاہیے کیونکہ وہ تو چاہتے ہیں کہ ان کو مشتعل کرکے ہمسایہ خلیجی ممالک کے خلاف کھڑا کر دیا جائے، پاکستان نے اپنی بھرپور کوششوں سے اِس جنگ کو ایک علاقائی جنگ بننے سے بچایا۔

انہوں نے کہاکہ امریکی خواہش کے مطابق اگر یہ علاقائی جنگ بن جاتی ہے تو امریکا کو اِس خطے کے اندر اپنا وجود تادیر برقرار رکھنے کا جواز مل جائے گا، اور پورا خطہ امریکی ’باج گزار‘ بن جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ امریکی بحری ناکہ بندی کی صورت میں ایران کو جو اندرونی چیلنجز درپیش ہو جائیں گے شاید ایران کو ان کا احساس نہیں ہے۔ بڑی مشکل سے ان کو تیل فروخت کرنے کی اجازت ملی تھی لیکن ابھی بھی وہ بینکنگ چینل سے باہر ہیں اور اس کے لیے جو تکنیکی مذاکرات ہونا تھے وہ معلوم نہیں کہ ہو پائیں گے یا نہیں، لیکن زمین پر ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔

’پاسداران انقلاب عوامی حمایت کو ہوش مندی سے استعمال کریں‘

منصور جعفر نے کہاکہ آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے پر جس بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اس سے ایرانی حکومت حد سے زیادہ اعتماد کا شکار ہوگئی، اور وہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے حوالے سے اور زیادہ جنون کا شکار ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز میں جن دو جہازوں نے عمان والے راستے سے گزرنے کی کوشش کی پاسداران انقلاب کو انہیں نشانہ نہیں بنانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہاکہ ان جہازوں کو نشانہ بنا کر ایران نے امریکا کو موقع فراہم کیا جس نے 3 دن کے اندر 400 کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔

منصور جعفر نے کہاکہ باہمی اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے اور مذاکراتی عمل جس میں قطر اور پاکستان دونوں شامل ہیں اس کے اِمکانات انتہائی معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، اس تناؤ کی صورت مذاکرات کی میز نہیں سجائی جا سکتی۔

اس ساری صورتحال سے فائدہ کس کو مل رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں منصور جعفر نے کہاکہ امریکا اور اسرائیل اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جنہوں نے نام نہاد رپورٹس کی بنیاد پر یہ کارروائی کی تھی، ان کا رجیم چینج سمیت کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہوا، لیکن امریکا ابھی بھی اپنے رجیم چینچ منصوبوں سے باز نہیں آیا۔

پاکستان اس صورتحال میں کیا کر رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان تو مفاہمتی یادداشت کی ایک ایک شق پر پہرہ دے رہا ہے اور روز اوّل سے بھرپور کوششیں کررہا ہے، جب جب کشیدگی بڑھتی ہے پاکستان کی سول اور فوجی قیادت اس کو ختم کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتی ہے، اس وقت بھی پاکستان بیک چینل سفارتکاری کررہا ہے۔

منصور جعفر نے کہاکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے، یہ تمام چیزیں ایرانی پالیسی سازوں کے بھی علم میں ہیں اور اِن کی حساسیت ان سے پوشیدہ نہیں ہے، امید یہی کی جانی چاہیے کہ ہوش مندی سے کام لیا جائےگا۔

آبنائے ہرمز میں عمان کی طرف سے گزرنے والے جہازوں پر ایران کس طرح سے معترض ہو سکتا ہے؟

انہوں نے کہاکہ اس وقت نیول ٹریفک بہت تعداد میں جمع ہو چکی ہے۔ اگر یہ عمان والی سائیڈ سے گزر جاتے ہیں تو ایران جو اس بحری ناکہ بندی سے مستفید ہو رہا تھا اس کو آبنائے ہرمز کا فائدہ نہیں مل پائے گا۔

منصور جعفر نے کہاکہ اگر عمان اس قضیے سے الگ ہو جاتا ہے تو ماضی میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے مشترکہ کنٹرول کے حوالے سے جو بات چیت ہونی تھی وہ دھری کی دھری رہ جائے گی، ایران کو یہ بھی خدشہ ہے کہ عمان کے راستے آبنائے ہرمز سے اگر جہاز گزرنا شروع ہوگئے تو آنے والے دِنوں میں ہو سکتا ہے کہ امریکا فوجی ساز و سامان کی ترسیل بھی شروع کر دے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایران کو اندازہ نہیں کہ اگر انہوں نے حوثیوں والا محاذ کھولا تو شاید ان کے لیے پاکستان کی ثالثی کو انجوائے کرنے والا سلسلہ نہ رہے، باقی ہمسایہ ملک تو ویسے ہی اس سے ناراض ہیں، اگر پاکستان نے بھی خود کو الگ کرلیا تو ایران امریکا اور اسرائیل کے رحم و کرم پر رہ جائےگا۔

علاقائی ممالک کس طرح مسئلے کو حل کر سکتے ہیں؟

منصور جعفر نے کہاکہ علاقائی ممالک خاص طور پر قطر اِس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہے کیونکہ اس کی تیل و گیس ترسیلات بالکل رک گئی ہیں، متحدہ عرب امارت تو پھر فجیرہ بندرگاہ کو استعمال کر سکتا ہے لیکن وہ ایک مہنگا روٹ ہے، خطے کے ممالک خاص طور پر جی سی سی ممالک کو اپنے آپ کو ازسرِنو مرتب کرنا پڑے گا، کیونکہ اِس صورتحال میں امریکا کو مزید موقع مل جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے کنڑول کا بیان کتنا سنجیدہ ہے؟

منصور جعفر نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ شاید یہ بھول گئے ہیں کہ اس آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے لیے انہوں نے 4 مہینے جنگ لڑی ہے اب کیا ایسا مختلف ہوگیا ہے کہ امریکا ہزاروں میل دور سے آ کر اسے کنٹرول کر لے گا۔

مزید پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

’امریکی صدر کی جانب سے 20 فیصد ٹول کا اعلان دراصل انہوں نے ایران کو ایک راہ سجھا دی ہے کہ وہ بھی وصول کر سکتے ہیں۔

’اس نوعیت کے اعلانات قابل عمل نہیں ہیں اور پہلے ہی انشورنس کمپنیوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں کہ 20 فیصد ٹول کے ساتھ وہ انشورنس مہیا نہیں کر سکتے اور پہلے ہی متبادل راستوں پر بات چیت اور کام ہونا شروع بھی ہوگیا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!