پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

بدھ 15 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر پہلی بار پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11 سی کے تحت تشکیل دی گئی ہے، جو اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق کے تحفظ اور اس کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے خصوصی قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر قائم ہونے والی اس کمیٹی کے چیئرمین رکنِ اسمبلی سردار محمد اویس دریشک مقرر کیے گئے ہیں۔

کمیٹی کے ارکان میں سید علی حیدر گیلانی، شوکت راجا، نورالامین وٹو، چوہدری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی شامل ہیں۔ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کی کارروائی میں معاونت کریں گے۔ کمیٹی کو ضرورت پڑنے پر اسمبلی کے کسی اور رکن کو بھی شامل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

مزید پڑھیں:پنجاب اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے بیان کے خلاف قرارداد جمع، قانونی کارروائی کا مطالبہ

جوڈیشل کمیٹی اسمبلی کے استحقاق سے متعلق معاملات کی سماعت، تحقیقات اور اسپیکر کی جانب سے بھیجے گئے استحقاقی ریفرنسز پر کارروائی کی مجاز ہوگی۔ کمیٹی کو نوٹس جاری کرنے، شواہد اور دستاویزات طلب کرنے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور متعلقہ افراد کا مؤقف سننے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ تحقیقات مکمل ہونے پر کمیٹی اپنی رپورٹ اور سفارشات اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق اور نظم و ضبط سے متعلق معاملات کی سماعت کرے گی، البتہ فوجداری اور دیوانی مقدمات اس کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے۔

جوڈیشل کمیٹی براہِ راست کسی کو سزا نہیں دے سکتی

سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کمیٹی کسی فرد یا افسر کو براہِ راست سزا یا معطلی کا حکم جاری نہیں کرسکتی بلکہ صرف سفارشات مرتب کرسکتی ہے۔ان سفارشات پر عملدرآمد متعلقہ محکمہ کرے گا۔ اسپیکر کے پاس بھی کسی کو معاف کرنے یا براہِ راست سزا دینے کا اختیار نہیں ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے تحت یہ کمیٹی پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے، جو اسمبلی کی خودمختاری کو مزید مضبوط کرے گی۔ آئے روز ارکانِ اسمبلی اپنے استحقاق کے مجروح ہونے کے حوالے سے تحریکِ استحقاق پیش کرتے ہیں تاکہ متعلقہ افسر کو طلب کر کے اس سے باز پرس کی جا سکے۔

تاہم، اس کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کی قانونی حیثیت اور پابندی کا انحصار حکومت اور متعلقہ محکموں پر ہوگا۔ اگر خلاف ورزی ثابت ہو گئی تو کمیٹی جرمانے، محکمانہ کارروائی یا دیگر قانونی اقدامات کی سفارش کر سکتی ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ پنجاب اسمبلی نے ایسا جوڈیشل فورم قائم کیا ہے، جسے پارلیمانی جمہوریت میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ کمیٹی نہ صرف پارلیمانی استحقاق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ اسمبلی کی کارروائی میں نظم و ضبط کو بھی مزید مؤثر بنائے گی۔

مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ مریم نواز سے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ملاقات، صوبائی اسمبلی کی کارروائی میں ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق

قصور کے ڈی پی او کا معاملہ

ذرائع کے مطابق قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) آفتاب پھلروان پہلے سرکاری افسر ہوں گے، جن کا معاملہ اس نو تشکیل شدہ جوڈیشل کمیٹی کے سامنے پیش ہوگا۔ پریولیجز کمیٹی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کے خلاف مبینہ توہین آمیز مہم چلانے اور اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی کے الزامات پر ڈی پی او کا کیس جوڈیشل کمیٹی کو ریفر کردیا ہے۔

ڈی پی او آفتاب پھلروان پریولیجز کمیٹی اور لا ریفارمز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وضاحت دے چکے ہیں، تاہم ارکان نے ان کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ الزام ہے کہ ڈی پی او کے پی آر او کی جانب سے سوشل میڈیا پر اسپیکر کے خلاف مہم چلائی گئی، جس سے اسمبلی کے وقار کو نقصان پہنچا۔ جوڈیشل کمیٹی اب اس کیس کی مکمل تحقیقات کرکے اپنی سفارشات مرتب کرے گی، جن کی بنیاد پر ممکنہ طور پر محکمانہ کارروائی، معطلی یا دیگر قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp