وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز پر قائم مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے سے متعلق سابقہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی جانب سے تحریر کیے گئے فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ مونال ریسٹورنٹ کی لیز اور زمین کی ملکیت کا تنازع پہلے ہی سول عدالت میں زیر سماعت تھا، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے سول عدالت کے فیصلے سے قبل آئینی درخواست پر فیصلہ دے دیا، جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مارگلہ ہلز پر قائم ریسٹورنٹس کے خلاف آبزرویشنز اور انکوائری کا حکم دیا، حالانکہ جن ریسٹورنٹس کے خلاف فیصلہ دیا گیا وہ مقدمے میں فریق ہی نہیں تھے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس سے قانونی غلطی برقرار رہی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے سول عدالت کا دائرۂ اختیار استعمال کرتے ہوئے شواہد ریکارڈ کیے بغیر حتمی نتائج اخذ کیے، جبکہ نظرثانی درخواست میں بھی فریقین کو مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کو سنے بغیر کیے گئے فیصلے کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
آئینی عدالت نے آبزرویشن دی کہ عدالتی دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا گیا، جس سے انصاف کے تقاضے متاثر ہوئے۔ ججز کے حلف کا تقاضا ہے کہ وہ آئین اور قانون کا تحفظ کریں، جبکہ فیصلوں میں موجود قانونی غلطیوں کی اصلاح بھی عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: مونال ریسٹورنٹ کی جگہ اب ’اسلام آباد ویو پوائنٹ‘ بنے گا؟
عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز کی تمام لیزیں منسوخ کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ مارگلہ ہلز کے متعلقہ معاملات پر دائرۂ اختیار کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا ہے، لہٰذا لیز کی مد میں جمع ہونے والی رقم وائلڈ لائف بورڈ کو منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔













