امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی نے اپنے صارفین کے لیے ہارڈویئر ڈیوائس تیار کرنے کی کوشش کے دوران ایپل کے تجارتی راز اور خفیہ معلومات غیر قانونی طور پر حاصل کیں۔ مقدمہ دونوں کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایپل نے جمعہ کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے کی وفاقی عدالت میں اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ اوپن اے آئی نے ایپل کے ملازمین کو اپنے ساتھ ملازمت کی پیشکش کر کے خفیہ معلومات اور تجارتی راز حاصل کرنے کی منظم مہم چلائی تاکہ اپنی صارفین کے لیے نئی ہارڈویئر مصنوعات تیار کی جا سکیں۔
The 10 craziest parts of the ChatGPT lawsuit.
Apple says:
1.) A former Apple engineer named Chang Liu quit Apple in January 2026 to join OpenAI, secretly kept his Apple-issued laptop instead of returning it, then discovered a bug that let him log back into Apple's private… pic.twitter.com/BmsyJdVErA
— Mickey from Arcadia (@mickeyhardy) July 10, 2026
ایپل نے 41 صفحات پر مشتمل درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی نے تکنیکی عملے سے لے کر اپنے چیف ہارڈویئر آفیسر اور کاروباری شراکت داروں تک مختلف سطحوں پر ایپل کی خفیہ معلومات، غیر متعارف شدہ مصنوعات، ٹیکنالوجی اور ترقیاتی منصوبوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
یہ مقدمہ دونوں کمپنیوں کے درمیان تعلقات میں نمایاں کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ 2024 میں ایپل اور اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کو ایپل کی مصنوعات میں ضم کرنے کے لیے شراکت داری کی تھی، تاہم بعد میں دونوں کے تعلقات خراب ہو گئے۔ بلومبرگ نے رواں سال مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ اوپن اے آئی بھی ایپل کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر رہی ہے، کیونکہ اس کے بقول ایپل نے چیٹ جی پی ٹی انضمام کو مناسب انداز میں فروغ نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں:30 ارب ڈالر کی میگا ڈیل، کیا ایپل اپنی مینوفیکچرنگ چین سے امریکا منتقل کر رہا ہے؟
مقدمے میں اوپن اے آئی، اس کی ہارڈویئر ذیلی کمپنی io Products، سابق ایپل ڈیزائن چیف جونی آئیو، اوپن اے آئی کے چیف ہارڈویئر آفیسر تان یو تان اور انجینئر چانگ لیو کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ایپل کا دعویٰ ہے کہ تان یو تان نے ملازمت کے انٹرویوز کے دوران ایپل کے خفیہ منصوبوں کے کوڈ نام استعمال کرتے ہوئے امیدواروں سے غیر اعلانیہ مصنوعات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی کے مطابق اس وقت اوپن اے آئی میں تقریباً 400 سابق ایپل ملازمین کام کر رہے ہیں۔

ایپل نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اوپن اے آئی کو اس کی خفیہ معلومات استعمال کرنے سے روکا جائے اور کمپنی کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ فروری میں اوپن اے آئی کو تحفظات سے آگاہ کیا گیا تھا، مگر کمپنی نے ان پر کوئی مؤثر جواب نہیں دیا۔ دوسری جانب اوپن اے آئی نے اس مقدمے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔














