قدیم ڈی این اے کے جدید تجزیے نے تقریباً 4 ہزار سال پرانے ایک تاریخی معمہ کو حل کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ کے مشہور ‘اپٹن لیول شمن’، جسے برسوں تک مرد روحانی پیشوا اور دھات سازی کا ماہر سمجھا جاتا رہا، درحقیقت ایک خاتون تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مصر میں 4 ہزار سال پرانے انسان کے ہاتھ کا نشان دریافت
تحقیقی نتائج کے مطابق کانسی کے دور سے تعلق رکھنے والا یہ تقریباً 4 ہزار سال پرانا ڈھانچا برطانیہ کی اہم ترین قدیم قبروں میں شمار ہوتا ہے۔ قبر سے چقماق کے کلہاڑے، دھات سازی کے اوزار اور ایک نفیس رسمی چادر کے آثار بھی دریافت ہوئے، جو اس خاتون کے معاشرتی مقام کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نوادرات تقریباً 1800 قبل مسیح کے ہیں، جب دھات کو پگھلا کر استعمال کے قابل بنانا ایک غیرمعمولی مہارت سمجھی جاتی تھی، جس کے باعث ایسے افراد کو معاشرے میں خصوصی روحانی اور سماجی مقام حاصل ہوتا تھا۔
The Windover Bog
DNA
also called the Windover Archaic people
The DNA from Windover is fascinating but comes with important caveats due to the era when it was analyzed. Core findings from the studies Asian origins: The DNA (extracted from preserved brain tissue in ~91 skulls and… pic.twitter.com/JOaaGQhiKs— Bobby Howe 🇺🇸 (@LFXRBobbyHowe) July 8, 2026
ولٹ شائر میوزیم کے ڈائریکٹر ڈیوڈ ڈاسن کے مطابق یہ دریافت اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ کانسی کے دور میں خواتین بھی دھات سازی جیسے انتہائی مہارت طلب شعبے میں نمایاں کردار ادا کرتی تھیں۔ ان کے بقول، ماضی میں یہ تصور عام تھا کہ قیادت اور دھات سازی صرف مردوں کا کام تھا، لیکن نئی تحقیق اس خیال کو چیلنج کرتی ہے۔
تحقیق کے دوران پتھروں کی سطح پر سونے کے ذرات بھی ملے، جن سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ خاتون لکڑی یا تانبے سے بنی اشیا پر سونے کی پرت چڑھا کر زیورات یا آرائشی سامان تیار کرتی تھی۔
ہڈیوں کے تفصیلی معائنے سے معلوم ہوا کہ یہ خاتون اپنے دور کے لحاظ سے لمبے قد اور مضبوط جسم کی مالک تھی۔ اس کے دائیں ہاتھ کی کلائی میں گٹھیا کے آثار بھی ملے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس نے زندگی کا بڑا حصہ دھات سازی کے اوزار استعمال کرتے ہوئے گزارا۔
یہ بھی پڑھیں: 5 لاکھ سال پہلے کا انسان کتنا ذہین تھا؟ حیران کن حقائق سامنے آگئے
یہ تحقیق لندن کے فرانسس کرک انسٹیٹیوٹ میں قدیم ڈی این اے سے متعلق نئی نمائش میں پیش کی گئی، جہاں یہ دکھایا گیا ہے کہ جدید جینیاتی تحقیق قدیم انسانوں کی زندگی، نقل مکانی اور معاشرتی کردار کے بارے میں نئی معلومات فراہم کر رہی ہے۔
ماہرین نے بعد ازاں دانت اور پاؤں کی ہڈی سمیت دیگر باقیات کا بھی تجزیہ کیا، جس سے تصدیق ہوئی کہ قبر میں صرف ایک ہی فرد دفن تھا۔
قدیم جینومکس لیبارٹری کے سینیئر سائنسدان پونٹس اسکوگلنڈ نے کہا کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں قدیم ڈی این اے کی تحقیق نے غیرمعمولی ترقی کی ہے، جس کے باعث ایسے سوالات کے جواب مل رہے ہیں جن تک پہلے رسائی ممکن نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: انسان نے بولنا کب شروع کیا؟ جانیے جدید تحقیق کی روشنی
معروف مؤرخ پروفیسر میری بیئرڈ نے کہا کہ قدیم ڈی این اے کی تحقیق انسانی تاریخ کے بارے میں ہماری بہت سی روایتی آرا تبدیل کر سکتی ہے، کیونکہ ماضی میں اکثر قدیم ڈھانچوں کی جنس کا تعین سائنسی شواہد کے بجائے معاشرتی مفروضات کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔














