پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ہماری ریڈلائن ہیں، تنقید برداشت نہیں کی جائےگی۔
بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے قبل پارٹی عہدیداروں اور ٹکٹ ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ انتخابی مہم کے سلسلے میں غیر اعلانیہ دورے پر منگل کے روز آزاد کشمیر پہنچے تھے۔
مزید پڑھیں: انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کشمیریوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرے گا تو ہمیں شدید دکھ ہوگا، اور اگر کوئی ہماری فوج کے خلاف بات کرے گا تو اسے بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
افواجِ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہیں۔ اگر پاکستان یا افواجِ پاکستان کے خلاف کشمیر یا پاکستان کے اندر سے کوئی بات کرے گا، خواہ وہ کوئی کارکن ہو یا کوئی سیاست دان، ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری pic.twitter.com/3xlL6V7zHH
— WE News (@WENewsPk) July 15, 2026
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ گزشتہ سال معرکہ حق میں بھارت کو شکست دینے والی پاکستان کی مسلح افواج ہماری ریڈ لائن ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے عالمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور مختلف سازشیں جاری ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف سازشوں کے دوران پاکستان اپنا مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے بھارت کے حملوں کا جواب دیا، جبکہ افغانستان کے راستے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملوں کے لیے بھیجے گئے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کا بھی پاکستان کی مسلح افواج بھرپور مقابلہ کررہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کے مقابلے کے لیے بھی پورا پاکستان متحد اور تیار ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ایران کے خلاف جنگ سے قبل بھارتی وزیراعظم اسرائیل میں موجود تھے اور اسرائیلی و بھارتی قیادت پاکستان کی کوششوں کو ناکام بنانے کے مواقع تلاش کررہی تھی، کیونکہ مسلم امہ میں پاکستان ہی ان کی سازشوں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی سیاستدان، کشمیری قیادت، سیاسی کارکن، عام شہری اور احتجاج کرنے والے تمام افراد کو ذمہ داری کے ساتھ الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کا کوئی دشمن ان بیانات کو ملک کے خلاف استعمال نہ کر سکے۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل سیاسی طریقے سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔












