پاکستان پیپلز پارٹی نے تقریباً 4 دہائیوں بعد لاہور کے تاریخی مقام مینار پاکستان پر ایک بار پھر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے، کوہالہ پل پر پرتپاک استقبال
پارٹی قیادت کے مطابق 25 جولائی کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ایک بڑے تاریخی کنونشن اور جلسۂ عام کا انعقاد کیا جائے گا جو 25 اور 26 جولائی کی درمیانی شب تک جاری رہے گا۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع پنجاب، بالخصوص لاہور میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو مزید متحرک کرنے، عوامی حمایت کو منظم کرنے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہوگا۔
مینار پاکستان پر پیپلز پارٹی کا آخری بڑا جلسہ 10 اپریل 1986 کو منعقد ہوا تھا جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی ختم کرکے وطن واپسی کے بعد اسی تاریخی مقام پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ اب تقریباً 40 برس بعد پارٹی ایک مرتبہ پھر اسی مقام پر عوامی اجتماع منعقد کرنے جا رہی ہے۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے، سلمان غنی
سینیئر تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں وقتاً فوقتاً مینارِ پاکستان پر اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں اور اب تقریباً 40 برس بعد پاکستان پیپلز پارٹی بھی اسی تاریخی مقام پر بڑا عوامی جلسہ منعقد کرنے جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا تاہم ملکی سیاست میں ایک تاثر عرصے سے موجود ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ایک غیر اعلانیہ مفاہمت رہی ہے جس کے تحت مسلم لیگ (ن) سندھ میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو زیادہ فعال نہیں کرتی جبکہ پیپلز پارٹی بھی پنجاب میں اپنی تنظیم کو اسی شدت سے متحرک نہیں کرتی۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: عوام پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنا ضامن سمجھتے ہیں، شازیہ مری
سلمان غنی کے مطابق پنجاب کی سیاست میں اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کو ہی بنیادی سیاسی قوتیں سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کا یہ جلسہ یقیناً پنجاب، خصوصاً لاہور میں اپنی سیاسی موجودگی اور مقبولیت کو دوبارہ اجاگر کرنے کی کوشش ہے، تاہم مینار پاکستان پر جلسہ کرنا محض ایک عوامی اجتماع نہیں بلکہ سیاسی طاقت اور عوامی حمایت کے اظہار کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا پیپلز پارٹی اتنی بڑی تعداد میں عوام کو جمع کرنے میں کامیاب ہو سکے گی یا نہیں البتہ اس نوعیت کے جلسے سیاسی ماحول بنانے میں ضرور کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس وقت پنجاب میں وہ سیاسی فضا دکھائی نہیں دیتی جو ایسے بڑے عوامی اجتماعات کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ تو اس وقت کوئی غیر معمولی سیاسی ماحول ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں متحرک نظر آ رہی ہیں۔ اس لیے یہ واضح ہو جائے گا کہ پیپلز پارٹی اپنی اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔
مینار پاکستان پر تاریخی جلسہ ہوگا، فیصل میر
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر کا کہنا ہے کہ 25 جولائی کو مینارِ پاکستان پر ہونے والا جلسہ عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان پر یہ اجتماع صرف ایک سیاسی جلسہ نہیں بلکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد، جمہوریت اور عوامی خدمت کے پیغام کو تازہ کرنے کا ذریعہ بھی ہوگا۔ ان کے مطابق 40 سال بعد اسی تاریخی مقام پر واپسی پارٹی کے لیے نہ صرف ایک علامتی بلکہ جذباتی لمحہ بھی ہے۔
فیصل میر نے کہا کہ لاہور کے عوام ہمیشہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور اس مرتبہ بھی بڑی تعداد میں جلسے میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے جلسے کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے پارٹی کے تمام ونگز کو فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟
انہوں نے مزید بتایا کہ جلسے کی تیاریوں کے سلسلے میں پارٹی کا خصوصی ترانہ بھی جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ لاہور میں تنظیمی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ سیکیورٹی، اسٹیج، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر انتظامات کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ بھرپور تعداد میں شرکت کریں تاکہ یہ جلسہ عوامی طاقت کا واضح مظاہرہ بن سکے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق جلسے میں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، صوبائی رہنما اور لاہور سمیت پنجاب بھر سے تنظیمی نمائندے شرکت کریں گے۔ جلسے کے دوران موجودہ حکومت کی پالیسیوں، مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم اور پنجاب کو درپیش عوامی مسائل پر تفصیلی اظہار خیال کیا جائے گا۔ پارٹی کے مطابق یہ اجتماع آئندہ سیاسی حکمت عملی اور پنجاب میں تنظیم نو کے منصوبے کا بھی اہم حصہ ہوگا۔
کیا پیپلز پارٹی مینارِ پاکستان کے جلسے کی بنیاد پر ن لیگ کو ٹف ٹائم دے سکے گی؟
اس سوال پر سینیئر تجزیہ نگار ماجد نظامی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مینار پاکستان پر جلسہ کرنا ایک معمول کی سیاسی سرگرمی ہے جس کا مقصد پارٹی کی تنظیم کو متحرک رکھنا اور کارکنوں کا حوصلہ بلند کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصل میر ایک متحرک تنظیمی رہنما ہیں اور وہ لاہور میں پارٹی کو فعال رکھنے کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں تاہم صرف اس جلسے کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے لیے بڑا سیاسی چیلنج بن جائے گی۔
ماجد نظامی کے مطابق اس جلسے کا اصل مقصد یہ جانچنا بھی ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب، خصوصاً لاہور میں اپنی عوامی مقبولیت میں کس حد تک اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اگر جلسے میں توقع سے زیادہ عوام شریک ہوتے ہیں تو پارٹی یقیناً یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ اس نے لاہور میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بینظیر بھٹو شہید کی 73 ویں سالگرہ، صدر مملکت اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا شاندار خراجِ تحسین
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پنجاب میں پیپلز پارٹی اس مقام پر نہیں پہنچی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے لیے کوئی بڑا سیاسی بحران پیدا کر سکے تاہم یہ جلسہ پارٹی کی تنظیمی کوششوں کا اہم حصہ ضرور ہے اور اس کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ 25 جولائی کو عوامی شرکت سے ہو جائے گا۔













