سعودی عرب کے صوبہ ’العلا‘ میں تاریخی اور ورثے کی حامل عمارتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں ثقافتی، سیاحتی اور معاشی سرگرمیوں کے فعال مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے، تاکہ ان کی تاریخی شناخت برقرار رکھتے ہوئے انہیں جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق 700 سال سے زائد قدیم تاریخ رکھنے والا العلا کا اولڈ ٹاؤن اس منصوبے کی نمایاں مثال ہے۔ اس تاریخی علاقے میں مٹی اور پتھر سے تعمیر کی گئی سینکڑوں عمارتیں، قدیم مساجد، بازار اور تنگ گلیاں موجود ہیں۔ بحالی کے منصوبے کے تحت تاریخی چوکوں اور گزرگاہوں کو ازسرِنو آباد کیا گیا ہے، جہاں اب دکانیں، کیفے، ریستوران، روایتی دستکاری کے مراکز اور آرٹ گیلریاں قائم ہیں۔
AlUla Transforms Historic Buildings into Living Cultural Spaces.https://t.co/7jWhCcz9Xa#SPAGOV pic.twitter.com/QGFxTCMiMb
— SPAENG (@Spa_Eng) July 15, 2026
اسی طرح دار تنطورہ منصوبے کے تحت متعدد تاریخی گھروں کی اصل طرزِ تعمیر کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں ایک پائیدار اور منفرد ہوٹل میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا نام تنطورہ سے لیا گیا ہے، جو ماضی میں العلا کے باشندے زرعی موسموں کا تعین کرنے کے لیے بطور دھوپ گھڑی استعمال کرتے تھے۔
علاوہ ازیں، الحجر میں واقع تاریخی حجاز ریلوے اسٹیشن کو بھی محفوظ کر کے ایک ہوٹل کمپلیکس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ موجود تاریخی نخلستان کی زرعی شناخت برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ مٹی کی دیواروں اور قدیم گزرگاہوں کی بحالی روایتی تعمیراتی مواد سے کی گئی ہے۔
رائل کمیشن فار العلا کا کہنا ہے کہ وہ ورثے کے تحفظ کے لیے اپنے جاری پروگراموں کے ذریعے تاریخی مقامات کو ثقافتی شناخت، سیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ کا اہم ستون بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ ماضی کی یہ تاریخی یادگاریں موجودہ دور میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہیں۔













