بھارت کے کڈن کلم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے تقریباً 19 ہزار فائلیں آن لائن لیک ہونے کے بعد ملک کے حساس انفرااسٹرکچر کی سائبر سیکیورٹی پر اہم اور سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کڈن کلم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق تقریباً 19 ہزار فائلیں، جن کا مجموعی حجم 14.3 گیگا بائٹ بتایا جاتا ہے، آن لائن شائع کی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کا ڈیٹا لیک، حساس فائلیں ڈارک ویب پر جاری
رپورٹ کے مطابق، یہ مواد مبینہ طور پر پلانٹ کے یونٹ 3 اور 4 پر کام کرنے والے کنٹریکٹر ریلائنس انفراسٹرکچر سے حاصل کیا گیا۔ لیک ہونے والی فائلوں میں پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے، وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کی ڈرائنگز، سپلائرز کی تفصیلات، معائنہ ریکارڈز اور ایک مشترکہ کنٹرول روم کا فلور پلان بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ریلائنس انفراسٹرکچر نے ایک بیان میں ’سیکیورٹی کی خلاف ورزی‘ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی اطلاع متعلقہ سرکاری اداروں کو دے دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق، مشتبہ سرگرمی کا سراغ 29 مئی 2026 کو اس کے ایک سرور پر ملا، جو یوتا (Yotta) کے ذریعے ہوسٹ کیا جا رہا تھا۔
رائٹرز کے مطابق، مذکورہ فائلیں 11 جون سے آن لائن موجود تھیں، تاہم خبر رساں ادارہ تمام دستاویزات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے حساس قومی انفراسٹرکچر کی سپلائی چین میں موجود ایک سنگین کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگرچہ جوہری ری ایکٹر کے بنیادی کنٹرول سسٹمز الگ تھلگ رکھے جاتے ہیں، تاہم پلانٹ کے نقشوں، کنٹریکٹرز کے نیٹ ورک، سپلائرز اور معاون نظاموں سے متعلق معلومات افشا ہونے کی صورت میں بدنیتی پر مبنی عناصر کو جسمانی، سائبر اور انسانی سطح پر ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی مسافروں کا انوکھا کارنامہ، ٹرینوں سے کروڑوں مالیت کی چادریں اور تولیے چرانے لگے
یہ کڈن کلم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے منسلک دوسرا نمایاں سائبر واقعہ ہے۔ اس سے قبل 2019 میں پلانٹ کے انتظامی نیٹ ورک میں میل ویئر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد بھی سائبر تحفظ کے نظام پر سوالات اٹھے تھے۔
تازہ واقعے نے ایک بار پھر بھارت کے حساس انفرااسٹرکچر، بالخصوص جوہری تنصیبات سے منسلک کنٹریکٹرز، تھرڈ پارٹی سروسز اور سائبر سیکیورٹی کے نفاذ کے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معلومات غلط ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو حملہ آور پلانٹ کے معاون نظام، سپلائرز اور سکیورٹی نظام میں ممکنہ کمزوریوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
بھارت میں سائبر حملوں میں اضافہ
سائبر سیکیورٹی کمپنی سرف شارک (Surfshark) کے مطابق گزشتہ سال بھارت دنیا میں ڈیٹا لیک سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر رہا، جہاں تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ اکاؤنٹس متاثر ہوئے۔ اس فہرست میں امریکا اور فرانس بھارت سے آگے تھے۔
مزید پڑھیں: مودی سرکار کے تمام ہتھکنڈے ناکام، فلم ’ستلج‘ کی اصل کہانی جو بھارتی مظالم کا عالمی اشتہار بن گئی
ڈیٹا سیکیورٹی کونسل آف انڈیا اور سائبر سیکیورٹی کمپنی سیکرائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں سروے کیے گئے 204 اداروں میں سے 73 فیصد کو یہ بھی معلوم نہیں تاھا کہ وہ کبھی سائبر حملے کا شکار ہوئے یا نہیں، جبکہ 57 فیصد اداروں میں بنیادی سائبر حفاظتی اقدامات موجود نہیں تھے۔
واضح رہے کہ کڈن کلم نیوکلیئر پلانٹ اس سے قبل بھی سائبر واقعے سے متاثر ہو چکا ہے۔ 2019 میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکر گروپ کے میل ویئر کو پلانٹ کے انتظامی نیٹ ورک پر دریافت کیا گیا تھا۔ اس وقت نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے کہا تھا کہ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ پلانٹ کے بنیادی نظام متاثر نہیں ہوئے۔اا













