جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کے خلاف تیسری مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی ہے۔
قرارداد مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ رانا محمد ارشد کی جانب سے سعودی عرب سے ڈیجیٹل دستخط کے ساتھ پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ بھجوائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: شہدا کی تضحیک ناقابلِ قبول، مولانا فضل الرحمان قوم سے معافی مانگیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
قرارداد میں مولانا فضل الرحمان کے بیان کو افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قومی یکجہتی کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے بیان سے شہدائے پاکستان کے ورثا کی دل آزاری ہوئی اور معرکۂ حق، آپریشن ضربِ عضب، افغانستان اور بلوچستان میں وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہداء کی قربانیوں کی توہین کی گئی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہیں اور ان کے کردار پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
’افواجِ پاکستان کے افسران اور جوان ملک کے دفاع کے لیے مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، اس لیے شہداء کی قربانیوں کا تمسخر اڑانا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔‘
مزید پڑھیں: فوج سے متعلق مولانا فضل الرحمان کا متنازع بیان اسلام آباد کے شہریوں نے مسترد کردیا
قرارداد میں سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ملک میں استحکام کی کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات، بہادری، قیادت اور قومی پالیسی پر عملدرآمد کو بھی سراہا گیا ہے۔
متن میں دعویٰ کیا گیا کہ 10 مئی 2025 کے معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان نے بھارت کو شکست دی، جس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا بیان غیر ذمہ دارانہ، شہدا کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے : فیصل کریم کنڈی
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اختلافِ رائے ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، تاہم قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔
’اس میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھیں، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنائیں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو قومی اتحاد اور یکجہتی کو نقصان پہنچائیں۔‘
قرارداد میں شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی عزت، وقار اور قربانیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔













