اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ شہدا کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی اداروں اور شہدا کے احترام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک بڑی سیاسی قوت ہے، تاہم مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان سے انہیں شدید اختلاف ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی توہین چاہے الفاظ سے ہو یا کسی عمل کے ذریعے، ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو قومی جذبات اور حساس معاملات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ریاستی اداروں کے کردار پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کسی بھی دہشتگرد، خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو، اس کے ساتھ ریاست کے مذاکرات مناسب نہیں۔ دہشتگردوں کو سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر مساجد، امام بارگاہوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی، ٹرین حملے اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا افواجِ پاکستان دہشتگردوں سے مذاکرات کرے یا ان کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر دہشتگرد اگر اکثریت کو یرغمال بنانے کی کوشش کریں تو ریاست اور افواجِ پاکستان کی ذمہ داری واضح ہے، تاہم اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی خاموشی قابلِ سوال ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کو دوبارہ ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ماضی کے مذاکرات اور ان کے نتائج کا بھی غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے، جبکہ داتا دربار، آرمی پبلک اسکول پشاور اور دیگر دہشتگرد حملوں کے شہدا کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور ملک میں پائیدار امن کا قیام سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
شہدا کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان pic.twitter.com/kkIVwB800X
— WE News (@WENewsPk) July 15, 2026
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ عمران خان کی تحریک اگر فوج کے سیاسی کردار کے خلاف ہوتی تو وہ اس کی حمایت کرتے، لیکن فوج کی مدد سے اقتدار میں آنا اور پھر فوج کے غیرجانبدار ہونے پر اس کی مخالفت کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔ انہوں نے پرویز الٰہی، متحدہ مجلس عمل اور ماضی کی سیاسی جماعتوں کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں کے مؤقف تبدیل ہوتے رہے ہیں، اس لیے سیاسی بیانات میں تسلسل اور ذمہ داری ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ پاکستان کی حفاظت پر مامور جوان صرف تنخواہ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں تو یہ شہدا اور قومی جذبات کی توہین ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہیں۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ 2014 کے دھرنے کی بنیاد انتخابی عمل پر اعتراضات اور 4 حلقوں کی تحقیقات کا مطالبہ تھا۔ بعد ازاں عدالتی فیصلوں میں بعض انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ضرور ہوئی، تاہم انہیں منظم دھاندلی قرار نہیں دیا گیا۔
مزید پڑھیں:شہدا کی قربانی کو تنخواہ سے نہیں تولا جا سکتا، احسن اقبال کا مولانا فضل الرحمان سے اختلاف
انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس، فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق اعتراضات کے حل کے لیے پارلیمانی اور قانونی فورمز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق انتخابی معاملات پر احتجاج کے باوجود آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہی جمہوری روایت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کے تناظر میں قومی معاملات پر سنجیدگی، ذمہ داری اور اتحاد کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں، امن کے اقدامات اور دہشتگردی کے خلاف ریاستی مؤقف کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو پوری قوم قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور شہدا کے اہلِخانہ کے جذبات کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک شہید کی قربانی پوری قوم کے امن اور سلامتی کی ضمانت بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں اصولی یکسانیت ہونی چاہیے اور وقتی مفادات کے تحت مؤقف تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر فوج کے سیاسی کردار پر اعتراض کیا جاتا ہے تو یہی اصول ہر دور اور ہر حکومت پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی حکومتوں کے قیام اور مختلف فیصلوں میں فوج کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو اپنے سابقہ فیصلوں اور موجودہ مؤقف کے درمیان تضاد کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ انتخابی اعتراضات کا حل سڑکوں کے بجائے آئینی اور قانونی فورمز، خصوصاً الیکشن ٹریبونلز کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ چند انتخابی درخواستوں یا تنازعات کی بنیاد پر پورے انتخابی نظام کو متنازع قرار دینا مناسب نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے شفاف نظام اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اس امر پر اتفاق ضروری ہے کہ انتخابی نتائج کو کس آئینی طریقۂ کار کے تحت تسلیم یا چیلنج کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات اور گمراہ کن بیانیے قومی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اس لیے قومی معاملات پر گفتگو ہمیشہ حقائق، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ہونی چاہیے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحد، بلوچستان اور دہشتگردی سمیت متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں اور عوام کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات اور ریاستی مؤقف میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے، جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی بیانیوں سے بڑھ کر قومی اداروں، افواجِ پاکستان اور شہدا کے وقار کا تحفظ ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔













