امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز 30 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام امریکی فوجیوں کے لیے سالانہ ’ٹیسٹوسٹیرون‘ (ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی سطح کا جائزہ لینے) کی لازمی اسکریننگ کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ دفاع کے مطابق اس اقدام کا مقصد فوجیوں میں ہارمون کی کمی کے مسئلے سے نمٹنا ہے، جو ان کی صحت اور عسکری صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ہارمون ریپلیسمنٹ تھیراپی اور مرضی کا انتخاب
وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک ویڈیو پیغام میں اس اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس اسکریننگ کے بعد ضرورت پڑنے پر فوجیوں کو ’ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھیراپی‘کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح قدرتی طور پر کم ہونے لگتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران آپ کے جسم میں ہارمونز کی سطح بالکل درست ہو تاکہ آپ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔‘
یہ بھی پڑھیے فضائی آلودگی مردوں میں کون سے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے؟
حکام کے مطابق یہ ٹیسٹ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کے لیے سالانہ جسمانی معائنے کا لازمی حصہ بنے گا۔ اگر کسی فوجی میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کی تشخیص ہوتی ہے، تو ہارمون ریپلیسمنٹ کا علاج اپنانا یا نہ اپنانا اس کی اپنی رضا مندی پر منحصر ہوگا (یہ لازمی نہیں ہوگا)۔ 30 سال سے کم عمر کے فوجی بھی اپنی درخواست پر یہ ٹیسٹ کروا سکیں گے۔
The US Department of Health and Human Services is requesting revisions to the labels on testosterone replacement therapies for men after reviewing new data and evidence on their safety and benefits. These updates could pave the way for easier access to testosterone replacement… pic.twitter.com/N3HJjFBeI6
— CNN (@CNN) June 20, 2026
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات (HHS) نے ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی پر عائد بعض پابندیوں کو نرم کیا ہے، جس میں گزشتہ ماہ بڑھتی عمر کے مردوں میں اس ہارمون کی کمی کے علاج کے لیے استعمال پر لگی حدیں ختم کرنے کا اعلان بھی شامل ہے۔
اپوزیشن جماعت (ڈیموکریٹس) کا شدید ردعمل اور طنز
امریکی وزیرِ دفاع کے اس اعلان پر حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل اور تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے پیٹ ہیگستھ کے اس فیصلے کو منافقت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انہوں نے حال ہی میں امریکی فوج میں ٹرانس جینڈر (مخنث) اہلکاروں کی خدمات پر پابندی عائد کی تھی، جو عموماً اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے اسی قسم کی ہارمون تھیراپی پر انحصار کرتے ہیں۔
ڈیموکریٹک کانگریس کی رکن سمر لی نے وزیرِ دفاع پر طنز کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ’تو اب آپ سب ‘جینڈر افرمنگ کیئر’ (جنس کی تصدیق کرنے والے علاج) کی حمایت کر رہے ہیں؟‘
یہ بھی پڑھیے اے آئی کی مدد سے پوشیدہ ’خزانے‘ کی کامیاب تلاش، بانجھ مردوں کے لیے اچھی خبر
اسی طرح ڈیموکریٹک سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے بھی اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ’مجھے تو یہ بالکل جینڈر افرمنگ کیئر کی طرح ہی لگ رہا ہے۔‘
سیاسی مبصرین کے مطابق، ڈیموکریٹس کا یہ تنقید کرنا اس لیے معنی خیز ہے کیونکہ قدامت پسند ریپبلکنز عام طور پر ٹرانس جینڈر افراد کے لیے ہارمونل علاج (جینڈر افرمنگ کیئر) کی شدید مخالفت کرتے ہیں، لیکن اب وہ فوج میں مردانہ صلاحیت اور طاقت بڑھانے کے لیے اسی نوعیت کے ہارمونل علاج کو سرکاری سطح پر متعارف کروا رہے ہیں۔














