حال ہی میں مولانا فضل الرحمان نے ایک متنازع بیان دیا، جو بنیادی طور پر ملکی سلامتی کے لیے جانیں قربان کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور شہدا کی مراعات اور تنخواہوں سے متعلق تھا۔ ان کے اس بیان کو عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں، بشمول کراچی بار ایسوسی ایشن جیسے معتبر اداروں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
جہاں وکلا برادری نے اسے ملکی ہیروز اور ان کے سوگوار خاندانوں کے جذبات کی تذلیل قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور مولانا فضل الرحمان سے اپنے الفاظ واپس لینے اور فوری معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مال دینا آسان، جان دینا مشکل کام ہوتا ہے، گورنر سندھ کی مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید، بیان واپس لینے کا مطالبہ
نو منتخب کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے وی نیوز سے بات چیت میں کہا ہے کہ سیاسی سطح پر ہر کسی کو اپنی بات کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن جب ہم تقریر کرتے ہیں یا کسی سے بات کرتے ہیں تو ہمیں اخلاقی حدود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ہم پالیسیوں پر اختلاف کر سکتے ہیں، اداروں پر تنقید بھی سمجھ میں آتی ہے، لیکن جو ہمارے شہدا ہیں، جنہوں نے پاکستان کی خاطر، ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا، ان کی قربانیوں کی اس طرح تذلیل کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔
شہدا کی تذلیل ناقابلِ قبول ہے
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ چالیس پچاس ہزار روپے تنخواہ لیتے تھے، یہ انتہائی نامناسب ہے۔ نوکری اور پیسے تو سب لیتے ہیں، لیکن جہاں موت کا خطرہ ہو وہاں ہر کوئی نہیں جاتا۔ وہ ہمارے ہیروز ہیں۔
آزادیِ اظہارِ رائے کی حدود
ان کا مزید کہنا تھا کہ عام زندگی میں بھی جب کوئی فوت ہو جائے تو ہم اس کے بارے میں ایسی بات نہیں کرتے۔ کچھ لوگ جو آج آزادیِ اظہارِ رائے کا بھاشن دے رہے ہیں، اگر ان کے اپنے قائدین کے خلاف کوئی بات کر دی جائے تو وہ فوراً طیش میں آ جاتے ہیں۔ آزادیِ اظہارِ رائے کی ایک حد ہوتی ہے۔
مطالبہ
عامر نواز وڑائچ نے مطالبہ کیا کہ مولانا صاحب کو شہدا کے خاندانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کرنی چاہیے اور اپنا یہ بیان فوراً واپس لینا چاہیے۔
کیا یہ موقف پوری وکلا برادری کی نمائندگی کرتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ ہر جگہ مختلف آرا اور پلس مائنس ہوتی ہیں، لیکن وکلا کی اکثریت اس موقف کے حق میں ہے۔ جب بار ایسوسی ایشن کوئی باضابطہ موقف اختیار کرتی ہے تو وہ اکثریت کی ہی ترجمانی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کیخلاف پنجاب اسمبلی میں تیسری مذمتی قرارداد جمع
آج کل کچھ لوگ اپنی سیاسی ناکامی یا حسد نکالنے کے لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں، لیکن تنقید کا بھی ایک معیار ہونا چاہیے۔ ہمارے وکلا کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ یہ بیان سراسر غلط تھا اور انہیں اپنے الفاظ واپس لینے چاہئیں۔
نئے دورِ صدارت کے اہداف اور مستقبل کا لائحہ عمل
نو منتخب صدر کراچی بار ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس وقت میرا سب سے اولین اور اہم ترین ہدف وکلا کے لیے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام ہے۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ ہم وکلا کے لیے ایک سوسائٹی حاصل کر سکیں تاکہ ان کے بچوں اور خاندانوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔












