پاکستان میں وحدت، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے قومی پیغام امن کمیٹی کی کوششیں رنگ لے آئیں۔
کراچی کے معروف تعلیمی ادارے جامعۃ الرشید میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علما اور مشائخ نے ایک ہی امام کی اقتدا میں نمازِ مغرب ادا کر کے اتحادِ امت کی ایک روشن مثال قائم کر دی ہے۔

اتحادِ امت کا عملی مظاہرہ
یہ اجتماع قومی پیغام امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا، جس کا مرکزی مقصد ملک میں فرقہ وارانہ اور مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت آصف زرداری اور امامِ مسجد نبوی کے درمیان ملاقات، وسیع تر اتحاد امت کی ضرورت پر زور
مختلف مسالک کے جید علما کی ایک ساتھ صف بندی اور ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی نے ملک دشمن عناصر کے لیے وحدت کا پیغام دیا ہے کہ اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی سلامتی کے تحفظ میں تمام دینی طبقات ایک پیج پر ہیں۔
یہ وحدت کی نئی شروعات ہے، حافظ طاہر محمود اشرفی
اس موقع پر کوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حکومتِ پاکستان اور چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’انتہا پسندی، دہشتگردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لیے یہ اتحاد ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پوری قوم کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ہماری اولین ترجیح ہے، اور ان شا اللہ قوم مستقبل میں بھی اس طرح کے اتحاد کے مناظر دیکھتی رہے گی۔
قیامِ امن کے لیے عزمِ نو
اس تقریب کے شرکا نے ملک میں امن و امان کے قیام اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی یومِ عرفہ پر امتِ مسلمہ کے لیے امن، اتحاد اور خوشحالی کی دعا
سماجی و مذہبی حلقوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات ہی معاشرے سے نفرتوں کو مٹا کر برداشت اور رواداری کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔














