بنگلہ دیشی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، سیکیورٹی اداروں نے جمعرات کے روز ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کو گرفتار کر لیا ہے، جو 4 دہائیوں سے زائد عرصہ قبل سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھا۔
بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کو 1981 میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ہولناک واقعے کے بعد ایک مارشل لاء عدالت نے بغاوت کے الزام میں 18 فوجی افسران کو مجرم قرار دیا تھا، اگرچہ دفاعی وکلاء کا مؤقف تھا کہ ملزمان کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا۔ بعد ازاں، ان میں سے 13 فوجی افسران کو پھانسی دے دی گئی، جبکہ اس سازش کے مبینہ مہروں میں شامل ایک کردار، محمد مظفر حسین، قتل کی واردات کے فوراً بعد روپوش ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت
حکام نے مظفر حسین کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 2,000 امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔ بالآخر جمعرات کو انہیں قانون کے شکنجے میں لے لیا گیا۔

ڈھاکہ پولیس کے ڈیٹیکٹیو برانچ کے چیف، محمد شفیق الاسلام نے میڈیا کو بتایا کہ محمد مظفر حسین 1981 میں صدر ضیاء الرحمان کے قتل کے بعد سے مسلسل فرار تھا۔ ہم نے آج اسے حراست میں لے لیا ہے، اور ابتدائی تفتیش کے دوران اس نے قتل کی اس واردات میں اپنے مجرمانہ کردار کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کو ڈھاکہ ایئرپورٹ پر اترتے ہی گرفتار کیا گیا۔ شفیق الاسلام نے مزید بتایا کہ مظفر حسین ناکام فوجی بغاوت کے فوراً بعد بنگلہ دیش سے فرار ہو گیا تھا اور تب سے اب تک بیرونِ ملک ہی مقیم تھا۔
یہ بھی پڑھیے 2009 کے قتل عام کا حکم شیخ حسینہ نے دیا، بنگلہ دیش کمیشن کا انکشاف
واضح رہے کہ قتل ہونے والے صدر ضیاء الرحمان کے صاحبزادے، طارق رحمان اس وقت بنگلہ دیش کے وزیراعظم ہیں۔ ضیاء الرحمان ملک کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعد 1977 میں بنگلہ دیش کے صدر بنے تھے۔
ان کے 4 سالہ دورِ صدارت کے دوران درجنوں بار فوجی بغاوت کی کوششیں کی گئیں اور ان کی موت کے محرکات اور حالات آج بھی پراسرار تہوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ چٹاگانگ (موجودہ چٹوگرام) کے دورے پر تھے، جہاں وہ اپنی نومولود سیاسی جماعت کے اندرونی بحران کو حل کرنے گئے تھے۔














