پاکستان نے روچڈیل جنسی استیصال اسکینڈل کے مرکزی مجرم شبیر احمد کو ملک بدر کر کے پاکستان بھیجنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ مکمل طور پر برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ شبیر احمد ایک برطانوی شہری ہے، اس کی پرورش اور جرائم برطانیہ میں ہوئے، اس لیے اس معاملے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بچوں کے جنسی استیصال کے واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی نسل، مذہب یا قومیت سے ہو۔
#WATCH: Pakistan’s Foreign Office rejects calls to accept Rochdale grooming gang ringleader Shabir Ahmed, saying his case is “entirely an internal matter of the UK” and Islamabad has “no connection whatsoever” with it. https://t.co/aC5RzsmtdX pic.twitter.com/ZEaOWTOjeW
— Arab News Pakistan (@arabnewspk) July 16, 2026
انہوں نے کہا کہ روچڈیل جنسی استیصال کیس کا مرکزی مجرم شبیر احمد ایک برطانوی شہری ہے، جس نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری، وہیں اس کی پرورش ہوئی اور وہیں برطانوی عدالت نے اسے جرائم کا مرتکب قرار دے کر سزا سنائی۔ اس کی رہائی، قانونی حیثیت یا مستقبل سے متعلق تمام فیصلے برطانوی حکام کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ مکمل طور پر برطانیہ کا داخلی معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی پیدائش سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کی پرورش کہاں ہوئی اور اس کی شخصیت کن حالات میں تشکیل پائی۔ انہوں نے کہا کہ شبیر احمد کے سنگین جرائم اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کے اسباب کا جائزہ برطانیہ کے اندر لیا جائے، نہ کہ اس کی ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالی جائے۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 1971 کے امیگریشن قانون میں ترمیم کر کے سنگین جرائم میں ملوث ایسے افراد کو ملک بدر کرنے کی راہ ہموار کرے گی، تاہم موجودہ قانون کے تحت شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کے لیے اسلام آباد کی رضامندی ضروری ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان شبیر احمد یا دیگر ملزمان کے تبادلے کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔













