بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی معاہدے پر عمل درآمد شروع، زیارت میں سرکاری ادارے شہدا کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ

ہفتہ 18 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر فوری عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر ضلع زیارت میں دہشتگردی کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے نام پر پولیس اسٹیشنوں، تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کے نام رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مابین ہونے والے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر معاہدے میں کیے گئے فیصلوں پر پیشرفت کا آغاز کرتے ہوئے ضلع زیارت میں دہشتگردی کے خلاف فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے اہلکاروں کی یاد میں متعدد سرکاری اداروں کو ان کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں دہشتگردی کی سازش ناکام، سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشتگرد ہلاک

اس سلسلے میں پرنسپل سیکریٹری ٹو چیف منسٹر بلوچستان کی جانب سے محکمہ داخلہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کو باقاعدہ مراسلے جاری کر دیے گئے ہیں، جن میں متعلقہ سرکاری عمارتوں کے نام تبدیل کر کے مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جاری مراسلوں کے مطابق ضلع زیارت کے 4 پولیس اسٹیشنوں کے نام تبدیل کیے جائیں گے۔ پولیس اسٹیشن سرمکسی کو ’شہید حسرت اللہ کاکڑ پولیس اسٹیشن‘، پولیس اسٹیشن دوسرکہ شبوزئی کو ’شہید جنداد خان پولیس اسٹیشن‘، پولیس اسٹیشن منگی کو ’شہید زین اللہ پانیزئی پولیس اسٹیشن‘ جبکہ پولیس اسٹیشن زندرہ کو ’شہید میجر زمان پانیزئی پولیس اسٹیشن‘ کا نام دیا جائے گا۔

محکمہ تعلیم کے تحت گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کان ڈیپو کا نام ’شہید کانسٹیبل مصطفیٰ خان گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کان ڈیپو‘، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کان ڈیپو کا نام ’شہید کانسٹیبل محمد آصف گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کان ڈیپو‘ اور گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کاوس غربی کا نام ’شہید کانسٹیبل محمد عثمان گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کاوس غربی‘ رکھا جائے گا۔

اسی طرح محکمہ صحت کے تحت رورل ہیلتھ سینٹر احمدون کو ’شہید کانسٹیبل اظہر احمد دمڑ رورل ہیلتھ سینٹر احمدون‘ جبکہ بیسک ہیلتھ یونٹ کاوس غربی کو ’شہید فرید اللہ بی ایچ یو کاوس غربی‘ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت شہدا کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور دھرنا کمیٹی سے ہونے والے معاہدے کے ہر نکتے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع، امن کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا پوری قوم کا فخر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کو شہدا کے نام سے منسوب کرنا ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھنے اور نئی نسل کو ان کی بہادری، فرض شناسی اور ایثار سے روشناس کرانے کی مؤثر کوشش ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان شہدا کے اہل خانہ کے احترام، ان کی فلاح و بہبود اور معاہدے میں کیے گئے تمام وعدوں کی بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی