ماہواری ٹریکنگ ایپس خواتین کا حساس ڈیٹا تیسرے فریق سے شیئر کر سکتی ہیں، ماہرین کا انتباہ

ہفتہ 18 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ماہواری (پیریڈ) ٹریک کرنے والی متعدد موبائل ایپس خواتین کا نہایت حساس ذاتی ڈیٹا جمع کرنے کے ساتھ اسے اشتہاری کمپنیوں اور دیگر تیسرے فریق کے ساتھ بھی شیئر کر سکتی ہیں، جس سے صارفین کی پرائیویسی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:بلوغت جیسے موضوعات پر بچوں کو کھل کر گائیڈ کریں، معروف ماڈل ونیزہ کا والدین کو مشورہ

میڈیا رپورٹ کے مطابق ان ایپس میں صرف ماہواری کی تاریخ ہی نہیں بلکہ حمل، زرخیزی، ادویات، جسمانی علامات، طرزِ زندگی اور بعض صورتوں میں جنسی صحت سے متعلق معلومات بھی محفوظ کی جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات تجارتی مقاصد، ہدفی اشتہارات اور صارفین کی پروفائلنگ کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں، اس لیے صارفین کو کسی بھی ایپ کی پرائیویسی پالیسی اور ڈیٹا شیئرنگ کے اصول ضرور پڑھنے چاہییں۔

مزید پڑھیں:کیا ’مخصوص دنوں‘ میں خواتین درد کش دوا کا درست انتخاب کرتی ہیں؟

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین ایسی ایپس کو ترجیح دیں جو کم سے کم ڈیٹا جمع کریں، واضح رازداری کی ضمانت فراہم کریں اور غیر ضروری معلومات تک رسائی کی اجازت طلب نہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا