جنوب مشرقی ناروے کے رہائشی علاقے میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 100 سے زیادہ مکانات جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق جمعہ کی سہ پہر ڈرامن کے علاقے کروکسیڈیلوا میں ایک ٹاؤن ہاؤس سے شروع ہونے والی یہ آگ دیکھتے ہی دیکھتے پڑوس کے گھروں اور قریبی جنگلات میں پھیل گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے یو اے ای پر میزائل اور ڈرون حملے، فجیرہ کی تیل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی
اس ناگہانی آفت کے بعد رہائشی علاقے سے 400 سے زیادہ افراد کو ہنگامی طور پر نکال لیا گیا ہے، جبکہ فائر فائٹرز ہفتے کے روز بھی آگ پر مکمل قابو پانے کے لیے برسرِپیکار رہے۔
ناروے کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ
نارویجن ڈائریکٹوریٹ فار سول پروٹیکشن (ڈی ایس بی) کے ڈائریکٹر لارس جیکب ہیم نے اس واقعے کو جدید ملکی تاریخ کی سب سے بڑی رہائشی آتشزدگی قرار دیا ہے۔
آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر قابو پانے کے لیے 6 فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر پے در پے پروازیں کر رہے ہیں، جنہوں نے متاثرہ علاقے پر اب تک تقریباً 8 لاکھ لیٹر پانی برسایا ہے، جبکہ مزید 7 ہیلی کاپٹرز کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔
ساؤتھ ایسٹ ڈسٹرکٹ پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ مزید گھروں تک آگ پھیلنے کا خطرہ کم ہو گیا ہے، تاہم صورتحال اب بھی مکمل کنٹرول میں نہیں ہے کیونکہ جنگل میں لگی آگ اور مختلف مقامات پر سلگتے انگارے اب بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن اور نقصانات
اس ہولناک آگ پر قابو پانے کے لیے 10 فائر اینڈ ریسکیو سروسز اور 17 اسٹیشنوں کے کم و بیش 100 فائر فائٹرز فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔ ناروے کی مسلح افواج، سول ڈیفنس اور پولیس بھی اس ریسکیو آپریشن میں فائر ٹینڈرز کے ہمراہ حصہ لے رہی ہے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد: مارگلہ پہاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، تیز ہوا کے باعث فائر فائٹرز کو مشکلات کا سامنا
خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان یا کسی شہری کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ البتہ، دھواں پھیپھڑوں میں جانے کے باعث سول ڈیفنس کے ایک اہلکار سمیت 2 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ 8 پولیس افسران بھی دھوئیں سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک فائر فائٹر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔
متاثرین کی ہوٹلوں میں منتقلی اور موسم کی صورتحال
ڈرامن کے میئر کجیل آرنے ہرمینسن نے اس واقعے کو ‘ایک بڑا المیہ’ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ بلدیہ کے تشخیصی مرکز میں اب تک 400 سے زیادہ متاثرین کا اندراج کیا جا چکا ہے۔
ان بے گھر ہونے والے شہریوں کو اسکینڈک ہوٹل ایمبیسیڈر اور شہر کے دیگر ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا ہے، جبکہ متعدد متاثرین اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں منتقل ہو گئے ہیں۔
فائر حکام کا کہنا ہے کہ رات کے وقت آسمانی بجلی چمکنے اور طوفانی صورتحال کے باعث عملے کو عارضی طور پر کچھ حصوں سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا، تاہم ماہرینِ موسم کا کہنا ہے کہ ہفتے کو متوقع تیز بارش فائر فائٹرز کی کوششوں کو کامیاب بنانے اور آگ کو مکمل ٹھنڈا کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔













