لاطینی امریکا کی اکثریت ورلڈکپ فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف اور اسپین کی حمایت میں، مگر کیوں؟

اتوار 19 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فٹبال ورلڈ کپ میں عموماً لاطینی امریکی ممالک اپنی خطے کی ٹیموں کی حمایت کرتے ہیں، تاہم اس بار ارجنٹینا اس روایت کی بڑی استثنا بن کر سامنے آیا ہے۔ برازیل، میکسیکو، کولمبیا، چلی اور دیگر ممالک کے شائقین کی بڑی تعداد فائنل میں اسپین کی کامیابی کی خواہاں ہے۔

سوشل میڈیا پر ارجنٹینا مخالف جذبات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ ایک وائرل میم میں اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال کو برازیل کی جرسی میں دکھایا گیا، جس پر طنزیہ کیپشن درج تھا: ’برازیل کے عوام کی آخری امید‘۔

مزید پڑھیں:فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

تجزیہ کاروں کے مطابق ارجنٹینا کے خلاف یہ رویہ صرف برازیل اور ارجنٹینا کی تاریخی فٹبال دشمنی تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے میں پھیل چکا ہے۔ کولمبیا کے ماہرِ عمرانیات جرمن گومیز کا کہنا ہے کہ ماضی میں لاطینی امریکی ممالک ایک دوسرے کی حمایت کرتے تھے، مگر اب یہ یکجہتی کمزور پڑ چکی ہے۔

کئی شائقین کا الزام ہے کہ ارجنٹینا کو اہم میچوں میں ریفریز کے فیصلوں اور فیفا کی جانب سے غیر معمولی حمایت حاصل رہی، حالانکہ فیفا اور متعدد ماہرین ان فیصلوں کو قوانین کے مطابق قرار دیتے رہے ہیں۔

برازیل کے 42 سالہ مداح فرانسسکو سانتوس کا کہنا تھا کہ اگر برازیل چیمپیئن نہیں بن سکتا تو وہ ارجنٹینا کے چوتھی بار عالمی چیمپیئن بننے کے بجائے اسپین کو دوسری مرتبہ ٹائٹل جیتتے دیکھنا پسند کریں گے۔

میکسیکو اور کولمبیا میں بھی متعدد شائقین نے اسپین کی حمایت کا اعلان کیا۔ میکسیکو سٹی کے ایک پولیس افسر انتونیو لوپیز نے لیونل میسی کو عظیم کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ٹیم اپنی محنت سے جیتے تو قابلِ قبول ہے، لیکن اگر اسے ریفریز کی مدد ملے تو وہ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔

ماہرین کے مطابق اس بار ورلڈ کپ صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاست بھی اس پر اثر انداز ہوئی ہے۔ بعض شائقین نے ارجنٹینا کے صدر جاویئر میلی کی پالیسیوں کو بھی ارجنٹینا مخالف جذبات کی ایک وجہ قرار دیا۔

اس کے علاوہ ارجنٹینا کے بعض شائقین اور کھلاڑیوں پر ماضی میں نسلی تعصب پر مبنی نعروں اور رویوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بھی کئی لاطینی امریکی ممالک میں ارجنٹینا کے خلاف منفی رائے پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

دوسری جانب ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی کا کہنا ہے کہ ٹیم نے مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچ کر ثابت کیا ہے کہ انہیں کوئی کامیابی مفت میں نہیں ملی۔ ان کے بقول، ’ہم نے خود کو دوبارہ دنیا کی 2 بہترین ٹیموں میں شامل کیا ہے، اور جسے برا لگے، لگتا رہے۔‘

اگرچہ لاطینی امریکا کے کئی ممالک ارجنٹینا کے خلاف ہیں، تاہم امریکا میں ارجنٹینا کے ٹریننگ کیمپوں کے باہر ہزاروں مداح ’میسی، میسی‘ کے نعرے لگا کر اپنی حمایت کا اظہار بھی کر رہے ہیں، جبکہ کچھ شائقین اب بھی خطے کی یکجہتی کے تحت ارجنٹینا کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

K-4 منصوبہ 2029 تک مؤخر، منعم ظفر خان کا وزیراعظم کو احتجاجی خط، فوری فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ

فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر، پاکستان سمیت مختلف ممالک کے صارفین کو مشکلات کا سامنا

ورلڈ کپ 2026: اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان فائنل، فاتح ٹیم کتنی انعامی رقم ملے گی؟

شیخوپورہ تھیٹر تشدد کیس: ملزم گرفتار، ضمانت منسوخی کے لیے قانونی کارروائی شروع، عظمیٰ بخاری

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ