‘شاہی خاندان کو برا کہا اور اب واپس آنا چاہتے ہیں‘، ہیری اور میگھن مارکل پر دوغلے پن کا الزام

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ واپسی کے تناظر میں شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کو ایک بار پھر سخت عوامی اور میڈیا تنقید کا سامنا کرنا پڑ گیا جہاں شاہی امور کے مبصرین نے ان پر ’دوغلا پن‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہزادہ ولیم اور ہیری کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی، وجہ کیا ہے؟

برطانوی میڈیا کے مطابق، ٹاک ٹی وی کے یوٹیوب پروگرام میں شاہی امور کے ماہر ڈکی آربیٹر اور میزبان جیریمی کائل نے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے حالیہ رویے پر کھل کر تنقید کی۔

جیریمی کائل نے کہا کہ جو جوڑا کبھی برطانوی شاہی خاندان اور اس ادارے کو، جسے وہ نسل پرست اور ناقابل قبول قرار دیتا رہا آج دوبارہ اسی ملک اور اسی ادارے کے قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے یہ رویہ واضح تضاد کی مثال ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شاہی خاندان سے اتنی شکایات تھیں تو پھر اب اپنے بچوں کے لیے شہزادے اور شہزادیوں جیسے شاہی القابات لینے پر اصرار کیوں کیا جا رہا ہے؟

جیریمی کائل کے مطابق یہ دونوں مکمل طور پر منافقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ بالکل بعض سیاست دانوں کی طرح ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عوام سب کچھ بھول جائیں گے حالانکہ برطانوی عوام کی اکثریت کی ان کے بارے میں رائے شاید اب تبدیل نہ ہو۔

اس موقعے پر شاہی امور کے سابق ترجمان اور مبصر ڈکی آربیٹر نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ عوام کا رویہ آسانی سے بدلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید شہزادہ ہیری یہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ دورے کے بعد اگر وہ دوبارہ برطانیہ آئیں اور سب سے صلح صفائی کر لیں تو لوگ انہیں دوبارہ قبول کر لیں گے لیکن صورتحال اتنی آسان نہیں۔

مزید پڑھیے: پرنس آرچی اور للی بیٹ پہلی بار برطانیہ آئیں گے، کیا کزنز سے ملاقات ہوگی؟

ڈکی آربیٹر نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل دونوں دونوں جہانوں کی بہترین سہولتیں چاہتے ہیں یعنی شاہی خاندان سے علیحدگی بھی برقرار رہے اور شاہی حیثیت کے فوائد بھی حاصل ہوتے رہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ملکہ الزبتھ دوم نے اپنی زندگی میں ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ شاہی خاندان چھوڑنے کے بعد دونوں کو بیک وقت شاہی ذمہ داریاں اور ذاتی آزادی کی سہولت حاصل نہیں ہو سکتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل سے متعلق برطانیہ میں رائے عامہ اب بھی تقسیم ہے اور شاہی خاندان سے علیحدگی کے بعد ان کے بیانات، انٹرویوز اور حالیہ اقدامات پر بحث بدستور جاری ہے۔

یاد رہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے جنوری 2020 میں شاہی خاندان کی سینئر ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا جسے بعد ازاں ’میگزیٹ‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد دونوں امریکا منتقل ہو گئے اور متعدد انٹرویوز، نیٹ فلکس دستاویزی سیریز اور شہزادہ ہیری کی یادداشت ’اسپیئر‘ کے ذریعے شاہی خاندان پر نسل پرستی، عدم تعاون اور نامناسب رویے سمیت کئی سنگین الزامات عائد کیے جس کے باعث ان کے شاہی خاندان سے تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے۔

مزید پڑھیں: ’آخری سالوں کو میرے لیے عذاب نہ بناؤ‘، کنگ چارلس کی شہزادہ ہیری سے صلح کی خواہش سامنے آگئی

تاہم حالیہ مہینوں میں شہزادہ ہیری کی برطانیہ آمد، شاہی خاندان سے رابطوں کی کوششوں اور بچوں کے شاہی القابات برقرار رکھنے جیسے معاملات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ وہ اور میگھن مارکل ماضی کی تلخیوں کے باوجود شاہی خاندان سے تعلقات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان اور برطانوی عوام کے ایک بڑے حلقے کا اعتماد بحال کرنا ان دونوں کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp