ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقاتیں متوقع

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پیر کی شب سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نور خان ایئربیس پر ان کا استقبال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے پاکستان دورے کا کیا مقصد ہے؟

سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہیں۔ اس موقعے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایرانی وزیر داخلہ کو گلدستہ پیش کیا جبکہ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم بھی استقبال کے موقع پر موجود تھے۔

استقبال کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان آمد پر اپنے بھائی اسکندر مومنی کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی وزیر داخلہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران اچھی خبریں لے کر آئے ہوں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس دورے سے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا جبکہ خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔

اعلیٰ سطحی وفد بھی ہمراہ

ایرانی وزیر داخلہ کے ہمراہ آنے والے اعلیٰ سطحی وفد میں گورنر جنرل سیستان و بلوچستان، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: ایران امریکا معاہدہ خطرے میں: پاکستان اب بھی جنگ رکوا سکتا ہے، ایمبیسیڈر عمران علی

دورے کے دوران ایرانی وزیر داخلہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، اقتصادی روابط اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

محسن نقوی اور اسکندر مومنی کی ملاقات

پاکستان پہنچنے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی کے درمیان ملاقات بھی ہوئی۔

اس موقعے پر اسکندر مومنی نے کہا کہ اپنے بھائی محسن نقوی سے دوبارہ ملاقات کرکے بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو فقیدالمثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ روابط وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستانی حکومت اور عوام کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کے خلوص اور محبت کے معترف رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

مزید پڑھیں: سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کو تعطل سے بچانے میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، طلعت حسین

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) کو بچانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

جنگ بندی کے خاتمے کے بعد نئی کشیدگی

قبل ازیں اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اسکندر مومنی ان پاکستانی حکام سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کرانے میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا تاہم بعد ازاں یہ جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔

امریکا اور ایران ایک دوسرے پر معاہدہ توڑنے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں ماہ یہ بیان سامنے آیا تھا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ ایران اس وقت مکمل جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ امریکا نے اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزی کی۔

تاہم بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں کے باوجود ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں۔

پاکستان کی ثالثی کا کردار

پاکستان، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے بحران کے دوران مسلسل سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی اور عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی تھی۔

پاکستان کی ثالثی میں 18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) پر دستخط کیے گئے تھے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھولنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا معاہدہ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے سیاسی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوں گے؟

اگرچہ بعد میں جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی تاہم پاکستان اب بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو بحال رکھنے اور خطے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp