۔
۔
افغانستان کے صوبہ نورستان میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی جبکہ 100 سے زیادہ افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق لاپتا افراد میں صوبائی دارالحکومت پارون کے میئر بھی شامل ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق صوبائی دارالحکومت پارون اور گردونواح میں پیر کے روز آنے والے اچانک سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے بتایا کہ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں سرگرم ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور خراب موسم کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کے ایس ریلیف کی افغانستان میں امدادی سرگرمیاں: 510 خاندانوں میں غذائی پیکجز تقسیم
افغانستان کے قومی ادارہ برائے قدرتی آفات (ANDMA) کے مطابق سیلاب سے ہونے والا جانی نقصان نورستان کے مختلف علاقوں میں ہوا، جو پاکستان کی سرحد سے متصل پہاڑی صوبہ ہے۔ ادارے نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں کئی خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ متعدد مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
مقامی غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ عاشق اللہ صافی نے بتایا کہ سیلابی ریلوں نے متعدد عمارتوں، ہوٹلوں اور درجنوں دکانوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں میں سڑکیں اور رابطہ راستے بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں لوگ کیچڑ اور ملبے کے درمیان موجود ہیں، جبکہ بعض مقامات پر شہری تیز بہاؤ والے دریاؤں کے کناروں پر جمع ہو کر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں سیلاب کے باعث 300 سے زیادہ افراد جاں بحق، ہزاروں مکانات تباہ
افغانستان کے قومی ادارہ برائے قدرتی آفات نے ملک کے متعدد صوبوں میں مزید بارشوں، آندھیوں اور سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے نے عوام سے کہا ہے کہ وہ دریاؤں کے کناروں، نشیبی علاقوں اور ان مقامات سے دور رہیں جہاں سیلاب کا خطرہ زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان ایک طویل عرصے سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک میں شدید بارشوں کے باعث اچانک آنے والے سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں، جن سے خاص طور پر دور دراز دیہی اور پہاڑی علاقوں میں جانی نقصان اور املاک کی تباہی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ کمزور انفراسٹرکچر اور محدود امدادی وسائل کے باعث ایسے حادثات کے بعد بحالی کا عمل بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔












