ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑھتے خدشات کے دوران امریکا کے خام تیل کے ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس نے ملک کی توانائی سلامتی اور مستقبل کی سپلائی صورتحال سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کے تجزیے کے مطابق امریکا کے پاس موجود خام تیل کے مجموعی ذخائر سے تقریباً 43 دن کی طلب پوری کی جا سکتی ہے، جو جولائی 1983 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی بحران یا سپلائی میں اچانک رکاوٹ کی صورت میں امریکا کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے تازہ اعداد و شمار بھی ذخائر میں کمی کی تصدیق کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 10 جولائی تک امریکا کے کمرشل خام تیل کے ذخائر تقریباً 409.7 ملین بیرل رہ گئے تھے، جو گزشتہ 5 برس کی اوسط سطح سے تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
اسی طرح امریکا کے اسٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو (SPR) میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 18 جولائی تک یہ ذخائر کم ہو کر تقریباً 316.5 ملین بیرل رہ گئے، جو اپریل 1983 کے بعد کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی خواب پریشان: وینزویلا کے تیل ذخائر سے فوری فائدہ ممکن نہیں، ماہرین نے خبردار کردیا
مجموعی طور پر امریکا کے پاس موجود کمرشل اور ہنگامی ذخائر ملا کر تقریباً 730.8 ملین بیرل خام تیل باقی ہے، جو گزشتہ 4 دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق امریکا نے گزشتہ برسوں میں اسٹریٹیجک ذخائر سے بڑی مقدار میں تیل استعمال کیا، خاص طور پر 2022 میں روس یوکرین جنگ کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بائیڈن انتظامیہ نے اس ذخیرے سے ریکارڈ مقدار میں تیل جاری کیا تھا۔ اس کے بعد ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا عمل جاری ہے، تاہم یہ ابھی تک سابقہ سطح تک بحال نہیں ہو سکے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، خلیج فارس میں ممکنہ عدم استحکام اور عالمی تیل رسد کے حوالے سے خدشات نے توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو کم ہوتے امریکی ذخائر توانائی قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ
واضح رہے کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، تاہم عالمی توانائی بحران یا جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران اسٹریٹیجک ذخائر کو ایک اہم حفاظتی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ کمی نے واشنگٹن کے لیے توانائی ذخائر کی بحالی اور طویل المدتی حکمت عملی پر توجہ بڑھا دی ہے۔













