مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کی قیادت پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصف محمود کے سپرد

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی نژاد امریکی معالج اور انسانی حقوق کے ممتاز کارکن ڈاکٹر آصف محمود کو متفقہ طور پر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔

اس انتخاب کے ساتھ وہ اس بااختیار 2 جماعتی وفاقی مشاورتی ادارے کی سربراہی کرنے والے پہلے جنوبی ایشیائی بن گئے ہیں۔

یہ کمیشن دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لیتا ہے اور اپنی سفارشات وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور کانگریس کو پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی کمیشن کا بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر ’خصوصی تشویش‘ والا ملک قرار دینے کا مطالبہ

چیئرمین منتخب ہونے کے بعد اپنے بیان میں ڈاکٹر آصف محمود نے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے دیہی گاؤں سے امریکا کے ایک اہم انسانی حقوق کے ادارے کی قیادت تک کا سفر ان کے لیے غیر معمولی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد اور کسی بھی مذہب سے وابستہ نہ ہونے والوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھیں گے تاکہ مذہبی آزادی، انسانی وقار، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی پر امریکی رپورٹ پر پاکستان کا ردعمل

ڈاکٹر آصف محمود اس سے قبل کمیشن کے نائب چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، مئی 2026 میں انہیں دوسری مدت کے لیے دوبارہ کمشنر مقرر کیا گیا، جس کے بعد ان کی مدت ملازمت مئی 2028 تک بڑھا دی گئی۔ انہیں ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے دوبارہ نامزد کیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ڈاکٹر آصف محمود کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ ہیں جبکہ ان کی تقرری ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں عمل میں آئی۔ وہ سابق چیئرپرسن وکی ہارٹزلر کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔

ڈاکٹر آصف محمود گزشتہ برس بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق یو ایس سی آئی آر ایف کی ایک تنقیدی رپورٹ کی تیاری میں بھی نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی سکھ مذہبی آزادی سے محروم، مودی سرکار نے گرو نانک کے جنم دن پر یاترا روک دی

انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں پر خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش کی تھی۔

پنجاب کے شہر کھاریاں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آصف محمود نے سندھ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکا کا رخ کیا، جہاں انہوں نے طب میں اعلیٰ تعلیم اور تخصص حاصل کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں مذہبی امتیاز خوفناک سطح تک پہنچ گیا ہے، امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی

وہ پیشے کے اعتبار سے پلمونولوجسٹ ہیں اور انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ فلاحی خدمات کے لیے بھی عالمی سطح پر شہرت رکھتے ہیں۔

انہیں 2023 میں کیلیفورنیا میڈیکل بورڈ کا رکن بھی مقرر کیا گیا تھا، جبکہ کیلیفورنیا اسپتال ایسوسی ایشن انہیں انسانی خدمت کے اعتراف میں ہیومینیٹیرین ایوارڈ سے بھی نواز چکی ہے۔

علاوہ ازیں وہ مختلف سماجی اور طبی اداروں کے بورڈز سے وابستہ ہیں اور ضرورت مند مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کے باعث بھی خاصی شہرت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈاکٹر آکاش قتل کیس: گرفتار ملزمان کی مبینہ مقابلے میں ہلاکت نے تحقیقات پر سوالیہ نشان لگادیا

مودی کا خوف ختم، حکومت مخالف طلبہ تحریک کو بالی ووڈ کی بھرپور حمایت، سلمان خان، عالیہ بھٹ سمیت کئی فنکار میدان میں آگئے

پاکستان کی طرف سے حوثیوں کے سعودی آئل ٹینکر پر حملے کی شدید مذمت، ریاض کی مکمل حمایت کا اعادہ

خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے 22 افراد جاں بحق، 23 زخمی، 37 مکانات متاثر

حکومت کی سام سنگ کو پاکستان سے عالمی منڈیوں تک برآمدات بڑھانے کی پیشکش

ویڈیو

مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

پاکستان اور کینیڈا کے معاشی تعلقات کا نیا باب، کراچی کے لیے بڑے منصوبے کا عندیہ

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

کالم / تجزیہ

شفاف انتخابات کا فریب

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ