امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو مذہبی آزادی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث ’خصوصی تشویش کا حامل ملک‘ قرار دیا جائے۔
The U.S. Commission on International Religious Freedom has again urged designating India as a “Country of Particular Concern” over worsening treatment of minorities, hate speech, and religious freedom violations under the Modi government.#India #Modi pic.twitter.com/DGfdmYstcX
— Anoshay Ikram (@Anushayer) May 9, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی سربراہ وکی ہرٹزلر نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملے عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا جب بھی بھارت کے ساتھ تجارت یا دوطرفہ تعلقات پر بات کرے تو مذہبی آزادی کے معاملات کو بھی ضرور اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں، پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر شاندار مثال قائم کی، رمیش سنگھ اروڑا
وکی ہرٹزلر کا کہنا تھا کہ بھارت کو ایسے قوانین میں تبدیلی لانا ہوگی جو مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی بنیادی انسانی حق ہے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو بھی مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق حاصل ہونے چاہییں۔














