وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے آج وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک غیرجانبدار، مخلص اور دیانت دار ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنے مضبوط عزم پر قائم ہے۔
وزیراعظم نے ملاقات کے دوران رواں ماہ تہران کے اپنے دورے کا ذکر بھی کیا، انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات اور احترام کا پیغام بھی پہنچایا۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم اور حکومت پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور ایرانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے پیغامات پہنچائے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اعلیٰ سرکاری حکام پر مشتمل وفد کے ہمراہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے مقصد سے پاکستان آئے ہیں۔
ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ طے پائی۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا امن عمل اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال
انہوں نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے تہران کے دورے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔














