سابق وزیراعلیٰ ببلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پارٹی وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس دوران صوبے کو درپیش امن و امان کی صورتحال، سیاسی بحران اور دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نواز شریف سے ملنے پہنچ گئے
نیشنل پارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقاتوں میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر سیاسی ہے جس کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی مکالمے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، انتخابی عمل میں مداخلت کا خاتمہ کیا جائے، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی اصلاحات کی جائیں اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے اعتماد کی فضا بحال ہو۔ انہوں نے بارڈر ٹریڈ کی بحالی، بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بلوچستان کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے منتخب نمائندوں سے مزید مشاورت ضروری ہے تاکہ صوبے میں پائیدار امن کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں حکومت میں شمولیت یا وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی البتہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے حلقے اور بلوچستان کو درپیش مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مولانا فضل الرحمان سے بھی ملاقات کی اور انہیں بلوچستان کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے انہیں حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تھی تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سید علی شاہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد وزیراعلیٰ بننے کی کوشش نہیں بلکہ بلوچستان کے حقیقی مسائل سے وفاقی قیادت کو آگاہ کرنا تھا۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کی سیاسی تاریخ: نصف صدی کے دوران کتنی مخلوط حکومتیں مدت پوری کر سکیں؟
سید علی شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان اور دیگر اہم شخصیات کے سامنے بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور اس کے اسباب پر نیشنل پارٹی کا مؤقف رکھا۔
ان کے مطابق اسلام آباد میں اکثر صرف واقعات کی اطلاعات پہنچتی ہیں جبکہ مسائل کی بنیادی وجوہات پر کم توجہ دی جاتی ہے۔
سید علی شاہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تجاویز سے اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کو وزیراعلیٰ کی تبدیلی یا کسی نئی سیاسی ڈیل سے جوڑنا درست نہیں۔
دوسری جانب سینیئر صحافی و تجزیہ کار عرفان سعید کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ماضی میں مفاہمتی سیاست اور مذاکراتی عمل کا حصہ رہے ہیں اسی لیے موجودہ بحران میں بھی وہ مختلف سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔
عرفان سعید نے کہا کہ نیشنل پارٹی کا مؤقف پہلے دن سے یہی ہے کہ بلوچستان کے مسائل طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات سے حل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی ترقی اور فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کی تبدیلی سے متعلق مختلف سیاسی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں تاہم فی الحال ایسی کوئی عملی پیشرفت نظر نہیں آتی۔ ان کے بقول اصل ضرورت یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور بلوچستان کی نوجوان نسل کو ایک میز پر بٹھا کر سنجیدہ قومی مکالمہ شروع کیا جائے کیونکہ صرف وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے موجودہ بحران حل نہیں ہوگا بلکہ دیرپا حل جامع سیاسی ڈائیلاگ ہی سے ممکن ہے۔













