لاہور ہائیکورٹ نے 2020 کے لاہور سیالکوٹ موٹروے اجتماعی زیادتی کیس میں دو مجرموں عابد علی عرف مالی اور شفقت علی عرف بگا کی سزائے موت برقرار رکھنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
2 رکنی بینچ، جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل تھا، نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ نے عینی شواہد، طبی معائنے، ڈی این اے اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف الزامات ہر قسم کے معقول شک سے بالاتر ہوکر ثابت کیے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی، متاثرہ لڑکی کی شکایت پر 2 ماہ بعد ایف آئی آر درج
عدالت نے 3 جون 2026 کو مختصر فیصلے کے ذریعے دونوں مجرموں کی اپیلیں مسترد کردی تھیں، جبکہ اب اس کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ نے سزائے موت کی توثیق کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی وہ اپیل بھی مسترد کر دی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 اے کے تحت عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ مقدمہ ستمبر 2020 میں گجرپورہ تھانے میں درج کیا گیا تھا، جب پاکستانی نژاد فرانسیسی خاتون اپنی گاڑی میں بچوں کے ساتھ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہی تھیں۔ گاڑی کا ایندھن ختم ہونے پر وہ موٹروے پر رک گئیں، جہاں مسلح ملزمان نے مبینہ طور پر انہیں اور ان کے بچوں کو قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور نقدی، زیورات، اے ٹی ایم کارڈز اور دیگر قیمتی اشیا لوٹ کر فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: مردان: سرکاری اسپتال میں خاتون سے زیادتی،’کئی روز تک دوست کے ساتھی نے اپنے ساتھ رکھا‘
پولیس نے کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور دیگر اداروں کی مدد سے تحقیقات کے دوران ڈی این اے، فرانزک اور دیگر سائنسی شواہد اکٹھے کیے، جن کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
20 مارچ 2021 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دونوں ملزمان کو اجتماعی زیادتی پر سزائے موت، اغوا کے جرم میں عمر قید، ڈکیتی پر 14 سال قید، املاک کو نقصان پہنچانے پر 5 سال قید، متاثرہ خاتون کو ہرجانہ ادا کرنے اور ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔
اپیلوں کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ کے شواہد میں تضادات ہیں، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ خاتون کا بیان قابلِ اعتماد، مستقل اور سائنسی شواہد سے مکمل طور پر ثابت شدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف نائن پارک میں خاتون سے زیادتی، پولیس نے ملزم کا خاکہ جاری کر دیا
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان نے انسانی وقار، جسمانی خودمختاری اور خواتین کے احترام کو بری طرح پامال کیا، جبکہ ایسے جرائم نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے معاشرے میں خواتین کے تحفظ کے احساس کو متاثر کرتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس نوعیت کے جرائم میں غیر ضروری نرمی قانون کی بازدارانہ حیثیت کو کمزور کرے گی اور عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائے گی۔
لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی تمام سزائیں برقرار رکھتے ہوئے دونوں مجرموں کی اپیلیں مسترد کر دیں، جبکہ پنجاب حکومت کی سزا میں اضافے کی درخواست بھی خارج کردی۔













