مصنوعی ذہانت کی بے لگام دوڑ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے بعض جدید تجرباتی اے آئی ماڈلز نے ایک غیر معمولی سائبر واقعے کے دوران حفاظتی حدود عبور کرتے ہوئے دوسری اے آئی کمپنی ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔

اوپن اے آئی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ کمپنی اپنے جدید ترین ماڈلز، جن میں عوام کے لیے ابھی تک جاری نہ کیے گئے ماڈلز بھی شامل تھے، کی صلاحیتوں کا ایک محفوظ اور محدود تجرباتی ماحول میں جائزہ لے رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟

تاہم یہ ماڈلز تجرباتی حدود سے نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اپنے ٹیسٹنگ اہداف پورے کرنے کے لیے ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم تک پہنچ گئے۔

کمپنی نے منگل کو جاری بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے جدید ترین سائبر صلاحیتوں پر مبنی ایک غیر معمولی سائبر واقعہ قرار دیا۔

اوپن اے آئی کے مطابق اس کارروائی میں اگلی نسل کا جی پی ٹی 5.6 ایس او ایل ماڈل اور ایک اس سے بھی زیادہ جدید، مگر ابھی تک عوام کے لیے جاری نہ کیا گیا، اے آئی ماڈل شامل تھا۔

کمپنی کے مطابق یہ ماڈلز اپنے تجرباتی مقاصد کے حصول پر اس قدر مرکوز ہو گئے کہ انہوں نے ہگنگ فیس کو مطلوبہ معلومات اور ممکنہ حل حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہوئے وہاں رسائی حاصل کی۔

ہگنگ فیس ایک معروف پلیٹ فارم ہے جہاں اوپن سورس بڑے لینگویج ماڈلزاور ڈیٹا سیٹس میزبانی کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اوپن اے آئی بچوں کی خفیہ فنڈنگ کے الزام کی زد میں

گزشتہ ہفتے کمپنی نے بھی ایک ایسے سائبر حملے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جسے اس نے ماضی کے تمام واقعات سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی مکمل طور پر ایک خودمختار اے آئی ایجنٹ سسٹم نے انجام دی۔

سیم آلٹمین کی قیادت میں اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے، تاہم کمپنی نے واضح کیا کہ ماڈلز ایک انتہائی محدود اور الگ تھلگ تجرباتی ماحول سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے اوپن اے آئی اور ہگنگ فیس نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور ان سے وابستہ ممکنہ خطرات کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔

ہگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی حفاظت کا مسئلہ کسی ایک کمپنی کی کوششوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے تمام بڑی اے آئی کمپنیوں کے درمیان مؤثر تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار