مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے بعض جدید تجرباتی اے آئی ماڈلز نے ایک غیر معمولی سائبر واقعے کے دوران حفاظتی حدود عبور کرتے ہوئے دوسری اے آئی کمپنی ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔
اوپن اے آئی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ کمپنی اپنے جدید ترین ماڈلز، جن میں عوام کے لیے ابھی تک جاری نہ کیے گئے ماڈلز بھی شامل تھے، کی صلاحیتوں کا ایک محفوظ اور محدود تجرباتی ماحول میں جائزہ لے رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟
تاہم یہ ماڈلز تجرباتی حدود سے نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اپنے ٹیسٹنگ اہداف پورے کرنے کے لیے ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم تک پہنچ گئے۔
کمپنی نے منگل کو جاری بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے جدید ترین سائبر صلاحیتوں پر مبنی ایک غیر معمولی سائبر واقعہ قرار دیا۔
We're partnering with @huggingface to investigate an unprecedented security incident.
Cyber-capable OpenAI models compromised Hugging Face production during a benchmark evaluation.
Sharing preliminary findings to help defenders understand emerging risks:…
— OpenAI (@OpenAI) July 21, 2026
اوپن اے آئی کے مطابق اس کارروائی میں اگلی نسل کا جی پی ٹی 5.6 ایس او ایل ماڈل اور ایک اس سے بھی زیادہ جدید، مگر ابھی تک عوام کے لیے جاری نہ کیا گیا، اے آئی ماڈل شامل تھا۔
کمپنی کے مطابق یہ ماڈلز اپنے تجرباتی مقاصد کے حصول پر اس قدر مرکوز ہو گئے کہ انہوں نے ہگنگ فیس کو مطلوبہ معلومات اور ممکنہ حل حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہوئے وہاں رسائی حاصل کی۔
ہگنگ فیس ایک معروف پلیٹ فارم ہے جہاں اوپن سورس بڑے لینگویج ماڈلزاور ڈیٹا سیٹس میزبانی کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی بچوں کی خفیہ فنڈنگ کے الزام کی زد میں
گزشتہ ہفتے کمپنی نے بھی ایک ایسے سائبر حملے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جسے اس نے ماضی کے تمام واقعات سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی مکمل طور پر ایک خودمختار اے آئی ایجنٹ سسٹم نے انجام دی۔
سیم آلٹمین کی قیادت میں اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جائیں گے، تاہم کمپنی نے واضح کیا کہ ماڈلز ایک انتہائی محدود اور الگ تھلگ تجرباتی ماحول سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
OpenAI says its AI technology acted on its own in an 'unprecedented' hack of another company. pic.twitter.com/oehgmVGYss
— News Arena India (@NewsArenaIndia) July 22, 2026
واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے اوپن اے آئی اور ہگنگ فیس نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور ان سے وابستہ ممکنہ خطرات کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔
ہگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی حفاظت کا مسئلہ کسی ایک کمپنی کی کوششوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے تمام بڑی اے آئی کمپنیوں کے درمیان مؤثر تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔













