اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں سرحد پار آن لائن فراڈ کے متاثرین کو گزشتہ برس 88.3 ارب سے 114.1 ارب ڈالر تک کا نقصان اٹھانا پڑا، جو 2023 کے مقابلے میں کم از کم تین گنا زیادہ ہے۔
منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (UNODC) کی منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ غیر معمولی اضافہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ آن لائن فراڈ پر مبنی مجرمانہ معیشت نے انتہائی تیزی سے وسعت اختیار کر لی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمبوڈیا اور میانمار بالخصوص ایسے علاقائی مراکز بن چکے ہیں جہاں منظم جرائم پیشہ گروہ جعلی محبت کے جال (رومانس اسکیمز) اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام پر بڑے پیمانے پر فراڈ کرتے ہیں۔ ان مراکز میں کام کرنے والے افراد میں بعض اپنی مرضی سے شامل ہوتے ہیں جبکہ بہت سے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے لائے جاتے ہیں اور سخت حفاظتی حصار والے کمپاؤنڈز سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کو نشانہ بناتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران چین، جنوبی کوریا اور تائیوان میں آن لائن فراڈ سے سب سے زیادہ مالی نقصان ریکارڈ کیا گیا، جہاں ہر ملک میں اربوں ڈالر کی رقم دھوکہ دہی کی نذر ہوئی۔
سائبر فراڈ کا عالمی پھیلاؤ
اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ برسوں میں جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر فراڈ کی صنعت غیر معمولی رفتار سے پھیلی ہے۔ ابتدا میں یہ گروہ زیادہ تر چینی زبان بولنے والوں کو نشانہ بناتے تھے، تاہم اب ان کا دائرہ پوری دنیا تک وسیع ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے 2025 کے ابتدائی 5 ماہ، آن لائن فراڈ کے ذریعے بھارتی کتنے ملین ڈالرز سے ہاتھ دھو بیٹھے؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورکس دنیا بھر سے افراد کو بھرتی کرتے اور انسانی اسمگلنگ کے ذریعے اپنے مراکز تک پہنچاتے ہیں۔ میکونگ خطے میں قائم فراڈ کمپاؤنڈز میں کم از کم 80 ممالک اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمے کے جدید آلات نے ان گروہوں کے لیے مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک رسائی مزید آسان بنا دی ہے۔ اس کے باوجود فراڈ نیٹ ورکس اب بھی جرمن، پولش، ڈچ، ہسپانوی، اطالوی، فرانسیسی، سویڈش، نارویجن اور انگریزی زبان جاننے والے عملے کی بھرتی کے اشتہارات جاری کرتے ہیں تاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
کارروائیوں کے باوجود نیٹ ورک برقرار
رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکا، برطانیہ اور چین سمیت متعدد ممالک کے دباؤ پر خطے کے ممالک نے ان مراکز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، تاہم اس کے باوجود یہ مجرمانہ سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران کمبوڈیا سے مبینہ سائبر فراڈ نیٹ ورکس کے کئی سرغناؤں کو چین کے حوالے کیا گیا، جبکہ امریکا اور برطانیہ نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے چلائے جانے والے سائبر فراڈ میں ملوث کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں بھی عائد کیں۔
رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ بڑے سرغناؤں کی گرفتاریوں کے باوجود بہت سے فراڈ نیٹ ورکس بدستور سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ جب کسی فراڈ مرکز پر چھاپہ مارا جاتا ہے تو وہاں سے نکلنے والے بعض افراد حاصل شدہ مجرمانہ مہارت اپنے آبائی ممالک میں لے جا کر نئے نیٹ ورکس قائم کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے محبت کی آڑ میں آن لائن فراڈ: نوسربازوں سے کیسے بچا جائے؟
اقوام متحدہ کے علاقائی نمائندے ڈیلفین شانٹز کے مطابق بعض افراد متاثرین بھی ہوتے ہیں، لیکن انہی مراکز میں رہتے ہوئے وہ ایسی مجرمانہ مہارت حاصل کر لیتے ہیں جسے بعد میں دوسرے جرائم پیشہ گروہوں کو فروخت یا استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد اپنے ممالک واپس جا کر پہلے سے موجود مجرمانہ نیٹ ورکس سے روابط استوار کر لیتے ہیں، اور یہ رجحان نہ صرف افریقہ بلکہ یورپ، خصوصاً بلقان کے خطے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
منظم جرائم کا وسیع نیٹ ورک
اقوام متحدہ کے مطابق سائبر فراڈ مراکز دراصل جنوب مشرقی ایشیا میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پروان چڑھنے والے ایک وسیع مجرمانہ نظام کا صرف ایک حصہ ہیں۔
اس نظام میں میتھ ایمفیٹامین سمیت منشیات کی غیر قانونی تجارت، بچوں کے جنسی استحصال، جائیداد میں مشکوک سرمایہ کاری اور دیگر منظم جرائم شامل ہیں، جبکہ یہ گروہ موجودہ تجارتی راستوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور کرپٹو کرنسیوں کی آڑ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔













