نیدرلینڈز کی ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے طلبا نے ’اسٹیلا جووا‘ نامی شمسی توانائی سے چلنے والی جدید ایمبولینس تیار کرلی ہے، جو دور دراز علاقوں میں مریضوں تک طبی سہولتیں پہنچانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
2 نشستوں والی یہ ایمبولینس 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہے اور دھوپ والے دن 715 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں ایکسرے مشین، ڈیفبریلیٹر، الٹراساؤنڈ، ویکسین کے لیے ٹھنڈا اسٹوریج اور دیگر طبی سہولتیں موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: ’دنیا فلائنگ ایمبولینس کی طرف جارہی جبکہ کراچی میں سائیکل ایمبولینس کا افتتاح ہورہا ہے‘
طلبا کی ٹیم آئندہ ماہ اس پروٹوٹائپ ایمبولینس کو آزمائشی بنیادوں پر کینیا لے جائے گی، جہاں اسے دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے آزمایا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ جدید ایجاد ان علاقوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے جہاں اسپتالوں تک رسائی انتہائی محدود ہے۔













