پشاور میں 10 روز کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ

ہفتہ 4 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاورمیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اگلے 10 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔

ڈپٹی کمشنر آفس پشاورکے میڈیا سیل کے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکیورٹی کی نازک صورتحال کے باعث دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کا اطلاق ہفتہ سے ہوگا اور یہ پابندی 10 دن تک جاری رہے گی۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر شفیع اللہ کے مطابق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے 5 یا زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 5 یا اس سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے کی ممانعت ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو دفعہ 188 کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ دفعہ 144 اس وقت نافذ کی گئی ہے جب ایک غیری سیاسی ادارے پشاور اولسی تحریک پولیس لائنز میں دھماکے کے بعد امن و امان کی صورتحال اور کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف پشاور میں احتجاج کرنے جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو پشاور پولیس لائنز کی جامع مسجد میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد شہید ہو گئے تھے جس میں اکثریت پولیس افسران اور اہلکاروں کی تھی۔ اس کارروائی کے بعد شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ اور محکمہ پولیس کے ملازمین کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟