اداکارہ نعیمہ بٹ نے ہدایت کار اور فلم ساز سنگیتا کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انہیں آنے والی فلم ’مکھو‘ سے ان کے رویے اور مبینہ مطالبات کی وجہ سے الگ کیا گیا۔ نعیمہ بٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم سے علیحدگی کا فیصلہ صرف شیڈولنگ کے مسائل کے باعث کیا جبکہ جن باتوں کو مطالبات قرار دیا گیا وہ دراصل وہ تجاویز تھیں جو خود سنگیتا نے ان سے طلب کی تھیں۔
نعیمہ بٹ نے کہا کہ انہوں نے فلم کے معیار اور مجموعی بہتری کے لیے نیک نیتی سے چند تجاویز دی تھیں کیونکہ ہدایت کار نے خود ان سے رائے مانگی تھی۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ انہوں نے فلم میں کام کرنے کی حتمی منظوری کبھی نہیں دی تھی کیونکہ شوٹنگ کی طے شدہ تاریخوں میں وہ پہلے سے دیگر منصوبوں میں مصروف تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہرت کے بعد ساتھی اداکاروں کا رویہ بدل گیا، نعیمہ بٹ نے حیران کن راز کھول دیے
اداکارہ کے مطابق پہلی ملاقات کے دوران سنگیتا نے انہیں ایڈوانس رقم دی اور کہا کہ کسی سینئر کی دی ہوئی رقم واپس کرنا مناسب نہیں ہوگا تاہم جب انہوں نے فلم نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا تو پوری رقم فوری طور پر واپس کر دی۔
نعیمہ بٹ نے کہا کہ وہ سنگیتا کو شوبز انڈسٹری کی سینئر اور قابل احترام شخصیت سمجھتی ہیں اور فلم ’مکھو‘ کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہیں۔
دوسری جانب ایک انٹرویو میں سنگیتا نے دعویٰ کیا تھا کہ نعیمہ بٹ نے فلم ’مکھو‘ کے لیے ایڈوانس رقم وصول کرنے کے بعد کاسٹنگ سے متعلق مختلف تجاویز دینا شروع کر دیں جنہیں وہ بطور ہدایت کار قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔
سنگیتا کا کہنا تھا کہ ’میں نے ابتدا میں انہیں کاسٹ کیا تھا لیکن میں ایسے اداکاروں کے ساتھ کام نہیں کر سکتی جو ہدایات دینے لگیں۔ انہوں نے کہا کہ فلاں اداکار کو ہیرو بنایا جائے اور فلاں اداکارہ کو کاسٹ کیا جائے۔ اس پر میں نے ان سے ایڈوانس رقم واپس کرنے کا کہا جو انہوں نے واپس کر دی‘۔
سنگیتا نے مزید کہا کہ وہ گزشتہ 50 برس سے شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور اپنے کام کے حوالے سے فیصلے خود کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
اس معاملے پر اداکارہ مشی خان بھی نعیمہ بٹ کے حق میں سامنے آئیں۔ انسٹاگرام پر جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ تجویز دینا اور مطالبہ کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی اچھا مشورہ دے تو اسے محض اس لیے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی جونیئر فنکار کی جانب سے آیا ہے۔
View this post on Instagram
مشی خان نے سنگیتا کو مشورہ دیا کہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ اپنے رویے میں بھی لچک پیدا کریں کیونکہ نئے خیالات کو قبول کرنے سے نہ صرف کام میں بہتری آتی ہے بلکہ انڈسٹری بھی ترقی کرتی ہے۔














