پاکستان میں اینڈریونس ریس کے شعبے میں ایک نیا سنگ میل قائم ہوگیا، جہاں نتھیا گلی میں ملک کی پہلی 100 کلومیٹر ٹریل الٹرا میراتھن کامیابی سے منعقد کی گئی۔
یہ تاریخی مقابلہ گلیات ماؤنٹین ٹریل ریس کے پانچویں ایڈیشن کے دوران 18 اور 19 جولائی کو منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے 400 سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کل ہونے والی ملک کی سب سے بڑی میراتھن ریس میں کتنے رنرز شریک ہوں گے؟
دو روزہ مقابلوں میں پیشہ ور کھلاڑیوں، شوقیہ دوڑنے والوں، سفارتکاروں، خواتین اور بچوں نے چار مختلف کیٹیگریز میں حصہ لیا، جن میں 100 کلومیٹر، 60 کلومیٹر، 40 کلومیٹر اور 20 کلومیٹر کی دوڑ شامل تھی۔
پاکستان کی پہلی 100 کلومیٹر الٹرا میراتھن میں مردوں کے مقابلے میں اطہر اختر اور مزمل شہزاد نے مشترکہ طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ خواتین میں انعم عزیر پہلی چیمپئن بنیں۔
60 کلومیٹر دوڑ میں مردوں کا مقابلہ وقار احمد نے جیتا، جبکہ 40 کلومیٹر کیٹیگری میں مردوں میں عطا صمد اور خواتین میں شازیہ جمال فاتح قرار پائیں۔ 20 کلومیٹر مردوں کی دوڑ میں اسرار خٹک جبکہ خواتین میں امریکا کی الیگرا ایوٹو نے کامیابی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: ہنزہ میں میراتھن ریس، شرکت کرنے والے غیر ملکی سیاح کیا کہتے ہیں؟
دوڑ کے راستے نتھیا گلی کلب اور تھنڈیانی ٹاپ سے شروع ہوئے اور ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے دامن، مشک پوری اور میرنجانی چوٹیوں سے گزرتے ہوئے خیرا گلی اور جندالہ پر اختتام پذیر ہوئے۔
منتظمین کے مطابق مقابلوں کی تمام چاروں کیٹیگریز کو انٹرنیشنل ٹریل رننگ ایسوسی ایشن سے تصدیق شدہ حیثیت حاصل تھی، جبکہ یہ مقابلے عالمی درجہ بندی کے لیے بھی قابلِ قبول قرار دیے گئے۔
مارگلہ ٹریل رنرز کے بانی جاوید علی نوناری نے کہا کہ مشکل موسمی حالات کے باوجود کھلاڑیوں، رضاکاروں اور منتظمین کی محنت سے یہ ایونٹ کامیاب ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی 100 کلومیٹر ٹریل الٹرا میراتھن کا انعقاد برداشت کی دوڑ کے شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے، جبکہ دنیا بھر سے 400 سے زائد شرکا کی شرکت اس کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی میراتھن اور سائیکلنگ ریس کی تیاریاں مکمل
تقریب کے دوران خیبر پختونخوا میں یونیسیف کے تعاون سے بچوں کے لیے 500 میٹر کی ‘تعلیم کے لیے دوڑ’ بھی منعقد کی گئی، جس کا مقصد تعلیم اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا تھا۔
غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان کے خوبصورت پہاڑی راستوں اور مہمان نوازی کو سراہا، جبکہ مقامی شرکا نے انتظامات، طبی سہولتوں، پانی کے مراکز اور تربیت یافتہ رضاکاروں کی خدمات کو قابلِ تعریف قرار دیا۔
گلیات ماؤنٹین ٹریل ریس کا پانچواں ایڈیشن پاکستان میں پہاڑی دوڑ، سیاحت اور بیرونی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔














