بھارت کی سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سینکڑوں حامیوں اور طلبہ نے بھارتی پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے امتحانی بے ضابطگیوں اور بار بار پرچہ لیک ہونے کے واقعات کے خلاف آواز بلند کی اور تھالیاں بجا کہ انوکھے انداز سے شدید احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں:’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا امرتسر کے بعد بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان
بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران شرکا نے اسٹیل کی تھالیاں اور چمچ بجا کر حکومت کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا۔ اس مظاہرے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سخت سیکیورٹی انتظامات
احتجاج کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس نے مظاہرے کی نگرانی کے لیے کیمرے اور ڈرونز استعمال کیے جبکہ پارلیمنٹ کے اطراف اضافی نفری تعینات کی گئی۔
The Cockroach Janta Party (CJP) staged a unique “Thali Protest” at Delhi’s Jantar Mantar, where supporters banged plates and spoons to amplify their demands for accountability over alleged examination irregularities and paper leaks. Protesters renewed calls for the resignation of… pic.twitter.com/C9muS2XhBs
— Centrist Nation TV (@centristnattv) June 20, 2026
تھالی بجانے کا علامتی احتجاج
مظاہرین کی جانب سے تھالیاں بجانے کو وزیر اعظم مودی کے اُس اقدام پر طنز قرار دیا جا رہا ہے جب انہوں نے 2020 میں کووڈ۔19 وبا کے دوران عوام سے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے گھروں کی بالکونیوں اور چھتوں پر برتن بجانے کی اپیل کی تھی۔
پارٹی سربراہ کی حکومت کو وارننگ
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے، جو ایک سیاسی ابلاغی حکمتِ عملی کے ماہر اور بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، نے سوشل میڈیا کے ذریعے حامیوں سے احتجاج میں تھالیاں اور چمچ لانے کی اپیل کی تھی۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’دھرمیندر پردھان نامی وائرس کو ختم کرنا ضروری ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیرِ تعلیم مستعفی ہو جائیں تو پارٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
پارٹی کے ایک حامی دیپک کمار نے کہا کہ ’یہ تو صرف آغاز ہے۔ اگر دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نہ دیا یا اس معاملے پر کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو یہ احتجاج یہیں ختم نہیں ہوگا‘۔
امتحانی پرچہ لیک ہونے کا تنازع
یہ احتجاج گزشتہ ماہ قومی سطح کے میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچے کے مبینہ لیک ہونے کے بعد شروع ہونے والے تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ الزام ہے کہ امتحانی پرچہ سوشل میڈیا ایپ ٹیلیگرام کے ذریعے پھیلایا گیا تھا۔
مزید پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا
واقعے کے بعد حکام نے امتحان ملتوی کر دیا تھا جبکہ ٹیلیگرام پر عارضی پابندی بھی عائد کی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور امتحان اتوار کو منعقد کیا جائے گا۔
#Delhi : Cockroach Janta Party (CJP) Stages Massive Protest at Jantar Mantar
Hundreds of Gen Z protesters gathered at Jantar Mantar today, banging thalis with spoons in a satirical twist on the 2020 COVID ritual. The Cockroach Janta Party demanded the resignation of Union… pic.twitter.com/cgrw0kE70s
— Thepagetoday (@thepagetody) June 20, 2026
طلبہ کا شدید ردعمل
احتجاج میں شریک طالب علم وکی کمار نے کہا کہ ’ہم غربت میں رہتے ہیں، برسوں محنت سے پڑھائی کرتے ہیں اور پھر ہمارے امتحانی پرچے لیک ہو جاتے ہیں۔ کیا مجھے غصہ نہیں آئے گا؟‘۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت میں تیزی
کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز مئی میں اُس وقت ہوا جب سپریم کورٹ کے جج سوریہ کانت کے ایک بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں بعض بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچز‘ سے کیا گیا تھا۔
نوجوانوں نے اس اصطلاح کو مزاحمت اور استقامت کی علامت بنا لیا، جس کے بعد اس تحریک نے انسٹاگرام پر 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کر لیے۔
نوجوانوں کے مسائل کی آواز
ابتدائی طور پر بے روزگاری کے مسئلے پر قائم ہونے والی یہ تحریک اب بڑھتی مہنگائی، بدعنوانی، حکومتی جوابدہی اور نوجوانوں کے حقوق جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر اس تحریک کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت کے نوجوانوں میں روزگار، تعلیم اور حکمرانی کے مسائل پر بے چینی اور ناراضی بڑھ رہی ہے، جو مستقبل میں ایک مؤثر سیاسی آواز کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔














