خلع پر نصف حق مہر کی واپسی کا معاملہ، سپریم کورٹ نے اہم شرعی نکات پر معاونت طلب کر لی

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے خلع کے وقت خاتون سے نصف حق مہر واپس لینے سے متعلق اہم مقدمے میں ڈاکٹر انعام اللہ اور سینیئر وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ شعبہ تحقیق ڈاکٹر انعام اللہ اور ڈاکٹر بابر اعوان کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے عدالت نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی گئی۔

جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: 11سالہ بچی کے بہیمانہ قتل کیس میں مجرم کی سزائے موت کیخلاف اپیل مسترد

دوران سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا خلع لینے پر خاتون کے لیے حق مہر چھوڑنے یا واپس کرنے کی کوئی قدغن لگائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق عورت پر نصف حق مہر واپس کرنے کی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، جبکہ قرآن پاک میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ عورت کچھ دے کر علیحدگی حاصل کر سکتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کے قانون میں خلع لینے والی خاتون کو 50 فیصد حق مہر واپس کرنے کا پابند بنایا گیا تھا، تاہم وفاقی شرعی عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیویڈنڈ آمدن پر 35 فیصد ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کردیں

سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر بابر اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ قرآن پاک میں استعمال ہونے والے لفظ ’کچھ‘ کی تشریح اہم قانونی نکتہ ہے، جس کی عدالتی وضاحت ضروری ہے۔

اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آیا لفظ ’کچھ‘ کے مفہوم کا کوئی معیار مقرر کیا جا سکتا ہے، جبکہ جسٹس ڈاکٹر خالد مسعود نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے قرآن پاک کی تفاسیر کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ حق مہر کی جزوی یا مکمل واپسی کے معاملے پر متعدد خواتین کا استحصال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ماضی میں عدالتی احکامات پر مسمار ہونے والی عمارتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے نئے فیصلے سے متاثرین کو کیا ریلیف ملے گا؟

جس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ بعض اوقات استحصال دونوں جانب سے بھی ہوتا ہے اور ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو مالی فائدے کے لیے شادی کے کچھ عرصے بعد خلع حاصل کر لیتے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے پنجاب حکومت سے بھی مؤقف طلب کیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ متعلقہ حکام کو علماء سے مشاورت کے بعد ہدایات دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

دوران سماعت خوشگوار ماحول بھی دیکھنے میں آیا، ڈاکٹر بابر اعوان نے جسٹس ڈاکٹر خالد مسعود کو بینچ میں دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گڈ ٹو سی یو کہا، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ کیا باقی ججز کو دیکھ کر اچھا نہیں لگا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کی اصلاحاتی حکمتِ عملی سے مقدمات کے فیصلوں میں تیزی، برسوں پرانا بیک لاگ ختم

بابر اعوان نے جواب دیا کہ سب کو دیکھ کر خوشی ہوئی، تاہم ڈاکٹر خالد مسعود کو دیکھ کر خصوصی خوشی ہوئی، جبکہ جسٹس شہزاد ملک کے گڈ ٹو سی یو کہنے پر کمرۂ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp