سپریم کورٹ کی اصلاحاتی حکمتِ عملی سے مقدمات کے فیصلوں میں تیزی، برسوں پرانا بیک لاگ ختم

بدھ 15 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی اصلاحاتی حکمتِ عملی اور جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان کے تحت زیرِ التوا مقدمات میں نمایاں کمی اور مقدمات کے بروقت فیصلوں کے حوالے سے اہم پیشرفت حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ہدفی کیس مینجمنٹ، شواہد پر مبنی نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے مقدمات کے فیصلوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے پرانے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے جان، آزادی، خاندانی حقوق، ٹیکس اور کرایہ داری سے متعلق مقدمات کو ترجیح دی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کی جیل اصلاحات کانفرنس کا اعلامیہ جاری، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور سہولیات کے بحران پر تشویش

پریس ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ نے سزائے موت کے مقدمات میں 11 برس کا بیک لاگ ختم کر دیا ہے۔ اکتوبر 2024 میں عدالت 2015 کے مقدمات کی سماعت کررہی تھی، جبکہ جولائی 2026 تک 2026 میں دائر ہونے والے مقدمات کی سماعت شروع ہوچکی ہے۔ اس دوران سزائے موت کی 608 اپیلوں کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ سال 2026 کی صرف 22 اپیلیں زیرِ التوا ہیں۔

قبل از گرفتاری ضمانت کے مقدمات میں بھی 6 سال کا بیک لاگ ختم کر دیا گیا۔ اکتوبر 2024 میں 2020 کے مقدمات زیرِ سماعت تھے، جبکہ جولائی 2026 تک 2026 کے مقدمات کی سماعت شروع ہوگئی۔ اس عرصے میں قبل از گرفتاری ضمانت کی 2 ہزار 156 درخواستوں کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صرف 23 درخواستیں سال 2026 کی زیرِ التوا ہیں۔

اسی طرح بعد از گرفتاری ضمانت کے مقدمات میں 17 سال کا بیک لاگ ختم کیا گیا۔ اکتوبر 2024 میں 2009 کے مقدمات زیرِ سماعت تھے، لیکن جولائی 2026 تک عدالت 2026 کے مقدمات کی سماعت کر رہی ہے۔ اس دوران بعد از گرفتاری ضمانت کی 2 ہزار 303 درخواستوں کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صرف 66 مقدمات زیرِ التوا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کی عوام دوست عدالتی اصلاحات پر پیش رفت رپورٹ جاری

سپریم کورٹ نے خاندانی مقدمات میں بھی نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ عدالت نے سماعت کا دائرہ 2010 سے بڑھا کر 2026 تک پہنچا دیا، اس عرصے میں ایک ہزار 65 خاندانی مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صرف 150 مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن میں 122 مقدمات سال 2026 کے ہیں۔

ٹیکس مقدمات میں بھی ہدفی کیس مینجمنٹ کے ذریعے نمایاں بہتری آئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹیکس مقدمات کی سماعت 2011 سے بڑھا کر 2019 تک پہنچا دی اور اس دوران 506 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ٹیکس کے 842 مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن میں 608 مقدمات سال 2025 اور 2026 کے ہیں۔

کرایہ داری کے مقدمات میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ نے ان مقدمات کی سماعت 2011 سے بڑھا کر 2026 تک پہنچا دی، جبکہ سال 2026 کے صرف 46 مقدمات زیرِ التوا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار کی عدالتی اصلاحات کے لیے تجاویز کیا ہیں؟

سپریم کورٹ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ جان، آزادی، خاندانی حقوق اور تجارتی استحکام سے متعلق مقدمات کو آئندہ بھی ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

بیلجیئم کی شہزادی ایلیونور کی اسکول کی تعلیم مکمل، ہائیر ایجوکیشن کے لیے نیدرلینڈانتخاب کرلیا

2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ہدف کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں، وزیر صحت

یاسر حسین نئی مزاحیہ اسٹیج ڈراما ’سو سویٹ‘ کے ساتھ تھیٹر میں واپسی کے لیے تیار

پاک کویت دفاعی تعاون معاہدہ سیکیورٹی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائےگا، پاکستان

ویڈیو

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی