پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا جانے والا ایک ٹی ٹی پی جنگجو افغان شہری تھا، جس کے بعد افغانستان میں اس کے آبائی گاؤں میں تعزیتی اجتماع بھی منعقد ہوا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ افغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کے درمیان روابط کا ایک اور ثبوت ہے۔

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں ہونے والی حالیہ کارروائی نے افغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کے درمیان مبینہ روابط کو مزید واضح کر دیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق 11 جولائی کو ضلع باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والا مبینہ افغان جنگجو اسامہ حیدر ہلاک ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ حیدر، گل حیدر کا بیٹا تھا اور اس کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع سرخ رود کے گاؤں کوز ککرک سے تھا۔

حکام کے مطابق اس جنگجو کی ہلاکت کے بعد 14 جولائی کو اس کے آبائی گاؤں میں تعزیتی اجتماع بھی منعقد کیا گیا، جسے پاکستانی حکام اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہیں کہ افغانستان کے شہری پاکستان کے اندر دہشتگرد کارروائیوں میں شریک رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ طالبان حکومت اور پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کے درمیان مبینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغان شہری پاکستان کے اندر دہشتگرد سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک 300 سے زائد افغان شہریوں کی شناخت کی جا چکی ہے جو مبینہ طور پر پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان افراد کی شناخت، تصاویر اور افغانستان میں ان کے اہلِ خانہ اور رہائشی معلومات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔













