امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شمالی امریکا کے تجارتی معاہدے میں ایسی تبدیلیوں کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں جن سے اے آئی نظاموں کی شفافیت اور حکومتی نگرانی محدود ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت ماڈلز سے متعلق معلومات تک ریگولیٹرز کی رسائی مزید مضبوط بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں لوگ مصنوعی ذہانت ’ اے آئی‘ سے خوفزدہ کیوں؟
سینیٹر الزبتھ وارن نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کمپنیوں کی ان کوششوں کی مخالفت کریں جن کے ذریعے اے آئی ماڈلز کے الگورتھمز اور بنیادی معلومات کو حکومتی نگرانی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وارن کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے تجارتی معاہدے کے تحت ایسے قوانین چاہتی ہیں جن سے حکام کو مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی جانچ کے لیے محدود معلومات دستیاب ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ممکنہ نقصانات سے شہریوں کے تحفظ کے لیے حکومتوں کو زیادہ اختیارات اور معلومات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئے معاہدے میں ایسی شقیں ختم ہونی چاہئیں جو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے مصنوعی ذہانت الگورتھمز اور سورس کوڈ کو نگرانی سے بچانے کا موقع دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی کا نیا ماڈل ‘کیمی کے 3‘ لانچنگ کے لیے تیار، خاص بات کیا ہے؟
رائٹرز کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی قانون سازوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ممکنہ نقصانات کے باعث مزید سخت قوانین بنانے کی آوازیں تیز ہو رہی ہیں۔
صنعتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سورس کوڈ، الگورتھمز اور تربیتی معلومات ظاہر کرنے کی لازمی شرط عالمی سطح پر اے آئی خدمات کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان تنظیموں نے امریکی تجارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی جانب سے ایسی شرائط کی مخالفت کریں۔














